کراچی کے مصروف ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ سانحے کے بعد لاپتا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے باوجود خدشہ ہے کہ ملبے سے مزید لاشیں برآمد ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے
سندھ حکومت کے ہیلپ ڈیسک کے مطابق گل پلازہ سانحے میں لاپتا افراد کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز 70 لاپتا افراد کا اندراج کیا گیا تھا، جبکہ آج مزید 3 افراد کے نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے گل پلازہ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آتشزدگی کے واقعے میں اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران مزید لاشیں ملنے کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاحال واقعے میں تخریب کاری کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں:’گل پلازہ کی آگ اور وہ ادھوری خریداری جو کبھی مکمل نہ ہو سکی‘
حکام کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ 33 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی تھی۔ جلی ہوئی عمارت سے بعد ازاں مزید 4 لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی، جبکہ 22 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
چیف فائر افسر کا کہنا ہے کہ عمارت میں کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹ رہی ہیں اور بعض مقامات پر دیواریں ہتھوڑوں سے گرائی جا رہی ہیں تاکہ اندر موجود حصوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

پلازہ کی تیسری منزل پر کسی شخص کے پھنسے ہونے کے امکان کے پیش نظر اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جہاں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔













