فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے پرہجوم تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگی آگ تو بجھ گئی، لیکن اس کی تپش ایک ایسے خاندان کے گھر تک پہنچ گئی جس کا واحد سہارا اب یادوں کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، 6 افراد جاں بحق، 60 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم

36 سالہ فائر فائٹر فرقان علی، جو شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کرتے ہوئے ملبے تلے دب کر شہید ہو گئے، آج پورے شہر کے لیے ایک ایسی مشعلِ راہ بن چکے ہیں جسے وقت کی دھول کبھی دھندلا نہیں سکے گی۔

خون میں شامل ایثار کا جذبہ

فرقان علی کے لیے خطرات سے کھیلنا کوئی نئی بات نہ تھی۔ ایثار اور قربانی کا یہ جذبہ انہیں وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد، شوکت علی بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے تھے، تاہم فالج کے حملے کے بعد وہ جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فرقان نے 2018 میں ڈیسیز کوٹے پر اس پرخطر پیشے کا انتخاب کیا۔ وہ محض ایک سرکاری ملازم نہیں تھے، بلکہ اپنے والد کے ادھورے مشن کو آگے بڑھانے والے ایک سپاہی تھے۔

آخری کال اور فرض کی پکار

ہفتے کی شب 10 بجکر 26 منٹ پر جب گل پلازہ میں لگی آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، تو شہر بھر کے فائر اسٹیشنز کو الرٹ کر دیا گیا۔ فرقان علی بھی ہمیشہ کی طرح فرنٹ لائن پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ’گل پلازہ کی آگ اور وہ ادھوری خریداری جو کبھی مکمل نہ ہو سکی‘

صبح 5 بجے کے قریب، جب آگ پر قابو پانے کی آخری کوششیں جاری تھیں، پلازہ کی عقبی دکانوں میں آپریشن کے دوران اچانک ایک ملبہ گرا، جس نے فرقان کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ وہ ڈیوٹی جو انہوں نے شہریوں کو بچانے کے لیے شروع کی تھی، ان کی زندگی کی آخری ڈیوٹی ثابت ہوئی۔

قومی ہیرو کو خراجِ تحسین

دنیا بھر میں فائر فائٹرز کو سیویلین ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت آگ میں کودتے ہیں جب دنیا وہاں سے باہر بھاگ رہی ہوتی ہے۔ فرقان علی کی اس عظیم قربانی پر گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی سمیت تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرقان علی نے پیشہ ورانہ دیانت کی وہ مثال قائم کی ہے جس پر محکمہ فائر بریگیڈ اور پورا شہر فخر کرتا رہے گا۔

ایک خلا جو کبھی پُر نہ ہوگا

فرقان علی کی شادی کے بعد زندگی ایک نئے اور خوشحال موڑ پر تھی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آج کراچی کی فضائیں سوگوار ہیں اور ہر آنکھ پرنم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

فرقان علی آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کی بہادری کی داستان گل پلازہ کی دیواروں سے لے کر کراچی کی شاہراہوں تک ہمیشہ یاد  رہے گی۔ وہ ایک ایسے ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے دوسروں کے گھر روشن رکھنے کے لیے اپنا چراغِ زندگی بجھا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں