ناسا کا دیوہیکل راکٹ چاند پر انسانوں کو لے جانے والے مشن آرٹیمس2 کی تیاریوں کے سلسلے میں فلوریڈا کے کیپ کیناورل میں لانچ پیڈ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ مشن گزشتہ 50 برسوں میں چاند پر جانے والا پہلا انسانی مشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
تقریباً 12 گھنٹوں کے دوران 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کو عمودی حالت میں وہیکل اسمبلی بلڈنگ سے 4 میل (6.5 کلومیٹر) کا سفر طے کروا کر لانچ پیڈ 39 بی تک منتقل کیا گیا۔
راکٹ اب اپنی جگہ نصب ہو چکا ہے جہاں حتمی ٹیسٹس، جانچ پڑتال اور ایک مکمل ڈریس ریہرسل کی جائے گی جس کے بعد 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ اس مشن میں چار خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے۔
ناسا کے مطابق راکٹ کی ممکنہ کم از کم لانچ تاریخ 6 فروری ہے، تاہم فروری کے آخر، مارچ اور اپریل میں بھی متبادل لانچ ونڈوز موجود ہیں۔
راکٹ کو لانچ پیڈ پر پہنچائے جانے کے دوران ایک دیوہیکل مشین کرالر ٹرانسپورٹر کے ذریعے راکٹ کو زیادہ سے زیادہ 0.82 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا گیا جس کی براہ راست نشریات بھی کی گئیں۔
ناسا نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں راکٹ پر ویٹ ڈریس ریہرسل کی جائے گی جس میں ایندھن بھرنے اور لانچ کاؤنٹ ڈاؤن کے طریقۂ کار کی آزمائش شامل ہو گی۔
آرٹیمس 2 کے خلا بازوں میں ناسا کے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوک اور کینیڈا کے خلا باز جیرمی ہینسن شامل ہیں جو راکٹ کی منتقلی کے دوران کینیڈی اسپیس سینٹر میں موجود تھے۔
یہ مشن دسمبر 1972 میں اپالو 17 کے بعد چاند پر جانے والا پہلا انسانی مشن ہو گا۔ اگرچہ آرٹیمس 2 میں چاند پر لینڈنگ نہیں کی جائے گی بلکہ یہ مستقبل کی لینڈنگ مشن آرٹیمس 3 کی بنیاد رکھے گا۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے ممکن نہیں جبکہ ماہرین کے خیال میں سنہ 2028 اس کی ممکنہ تاریخ ہو سکتی ہے۔
خلاباز کرسٹینا کوک نے کہا کہ راکٹ کو دیکھنا ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا۔
مزید پڑھیے: برطانوی کمپنی نے خلا میں فیکٹری قائم کردی، مال کونسا تیار ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ لانچ کے دن خلا باز بہت پُرسکون ہوتے ہیں کیونکہ ہم مکمل طور پر تیار ہوتے ہیں کہ وہ مشن انجام دیں جس کی تربیت ہم نے حاصل کی ہوتی ہے۔
جیرمی ہینسن نے امید ظاہر کی کہ یہ مشن دنیا بھر کے لوگوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ چاند کو ہم ہمیشہ دیکھتے آئے ہیں مگر اب ہم اسے مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد انسان چاند کے دوسری جانب پرواز کریں گے جو انسانیت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
مشن کے ابتدائی 2 دن خلا باز زمین کے گرد مدار میں گزاریں گے جہاں وہ تقریباً 40 ہزار میل دور تک جائیں گے۔ اس کے بعد وہ ڈھائی لاکھ میل کا سفر طے کر کے چاند کے قریب پہنچیں گے۔
مزید پڑھیں: فروری کا ’برفیلا چاند‘ کب چمکے گا؟
چاند کے دوسری جانب پرواز کے دوران خلا بازوں کو 3 گھنٹے چاند کے مشاہدے، تصاویر لینے اور اس کی ارضیاتی ساخت کے مطالعے کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو مستقبل میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کی تیاری میں مدد دے گا۔
آرین خلائی جہاز کا ایک اہم حصہ یورپی سروس ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں تیار کیا گیا ہے جو یورپی خلائی ایجنسی کی شراکت ہے اور ایئربس نے اسے تیار کیا ہے۔
ناسا حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشن کو پہلے کئی تاخیر کا سامنا رہا ہے لیکن حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسان اگلے سال نصف صدی بعد دوبارہ چاند کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار
آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ جان ہنی کٹ نے کہا کہ میرا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے ہمارے چاروں خلا بازوں کی بحفاظت واپسی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسی وقت پرواز کریں گے جب ہم مکمل طور پر تیار ہوں گے۔













