سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں پرانے نمبر سسٹم کو ختم کر کے نئے گریڈنگ سسٹم کی منظوری دے دی ہے۔ نئے نظام کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل شمار ہوں گے، جبکہ طلبہ کی کارکردگی کو اب بین الاقوامی معیار کے مطابق گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:جیکب آباد: خاتون کا پولیس اہلکاروں پر پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام، وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں پرانے نمبر سسٹم کو ختم کر دیا، نئے گریڈنگ سسٹم کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو کے مطابق میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل ہوں گے۔ نئی پالیسی کے تحت کارکردگی گریڈز میں تقسیم ہوگی: A++ 96-100 فیصد، A+ 91-95 فیصد، A 86-90 فیصد، B++ 81-85 فیصد، B+ 76-80 فیصد، B 71-75 فیصد، C+ 61-70 فیصد، C 51-60 فیصد، D 40-50 فیصد، اور U 40 فیصد سے کم۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا، 2026 میں 9ویں اور 11ویں کلاس کے پہلے سالانہ امتحانات سے شروع ہوگا، اور 2027 میں دہم و بارہویں کلاس کے امتحانات میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
وزیر جامعات نے بتایا کہ ناکام طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور مستقبل میں GPA سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں یکسانیت آئے۔
یہ اقدام تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق لانے اور طلبہ کے لیے شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام فراہم کرنے کی کوشش ہے، اور گل پلازہ کراچی جیسے حادثات کے تناظر میں بھی تعلیمی اصلاحات اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔














