سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راجا ناصر عباس کے ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
قانونی ماہرین اور مبصرین کے مطابق راجا ناصر عباس کا اس کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر بھی ان کی جانب سے حمایت پر بحث جاری ہے۔
مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہر کے خلاف پیکا کے تحت عدالتی کارروائی میں نرمی پر تنقید
سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ مؤقف ایک ایسے فرد کے لیے اپنایا گیا ہے جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات لگ چکے ہیں، یا یہ صرف اس لیے ہے کہ ملزمہ ایک پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ راجا ناصر عباس کا منصب پارلیمانی سیاست تک محدود ہے اور کسی زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اگر مؤقف صرف اس بنیاد پر اپنایا گیا کہ ملزمہ کا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے، تو یہ قانونی اصول کی پامالی کے مترادف ہے اور عوام میں خدشہ پیدا کرتا ہے کہ معاملہ فرقہ وارانہ ہمدردی کا رنگ اختیار کر سکتا ہے۔
سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کے اس استعمال پر بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اقدام ایک ایسے کیس میں کیا گیا ہے جس سے قائدِ حزبِ اختلاف کا کوئی آئینی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتاری کا حکم
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قانونی اصول اور میرٹ کو پس پشت ڈال دیا جائے تو عوام کو حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ مداخلت کے پیچھے سیاست ہے یا فرقہ وارانہ ہمدردی ہے۔













