پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے پارٹی کے اندر جاری اختلافات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ عمران خان گزشتہ 900 دنوں سے جیل میں ہیں، اس کے باوجود پارٹی قیادت اور کارکنان تاحال مکمل اتحاد قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا امتحان اور کیا ہوسکتا ہے جو پارٹی کو یکجا کرسکے، مگر بدقسمتی سے اندرونی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
وی نیوز سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کو درپیش چیلنجز غیر معمولی نوعیت کے ہیں، جہاں ایک طرف پارٹی کے بانی جیل میں قید ہیں، وہیں دوسری جانب کارکنان اور رہنما ریاستی دباؤ، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں باہمی الزامات اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات پارٹی کے مخالفین کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
رہنما نے پارٹی قیادت اور تمام دھڑوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اختلافات ترک کریں اور اس اتحاد کی حمایت کریں جو عمران خان کی قیادت میں کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپس میں لڑنے کے بجائے اتحاد پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام، حکومت اور ریاستی ادارے پارٹی کے خلاف صف آرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کارکنان پر لاٹھی چارج ہو رہا ہے، مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور بعض افراد لاپتا بھی ہو رہے ہیں، ایسے میں اندرونی اختلافات مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ روش برقرار رہی تو آخرکار ایک دوسرے سے بدظن ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
یہ بھی پڑھیں:محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
8 فروری کو متوقع احتجاج کے حوالے سے سوال پر رہنما نے کہا کہ یہ احتجاج عمران خان کی رہائی کے لیے ایک کوشش ہے اور اگر فوری نتائج سامنے نہیں آتے تو احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی پارلیمنٹ، عدلیہ اور سڑکوں پر آواز بلند کرتی رہے گی جب تک عمران خان اور دیگر زیرِ حراست کارکنان کی رہائی عمل میں نہیں آ جاتی۔
مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کبھی مذاکرات کے خلاف نہیں رہے، تاہم بات چیت بامعنی اور نتیجہ خیز ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو اسے مثبت پیشرفت کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے عمران خان تک براہِ راست رسائی اور ان سے مشاورت ناگزیر ہے تاکہ کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچا جا سکے۔













