لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں چوری کی انوکھی واردات

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں چوری کی ایک ایسی واردات سامنے آئی ہے جس نے پولیس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی حیران کر دیا۔ نامعلوم چور کسی قیمتی زیورات یا نقدی کے بجائے گھر سے مہنگے جوتوں کا مکمل ذخیرہ سمیٹ کر رفوچکر ہوگیا۔

پولیس کے مطابق چور نے مردانہ، زنانہ، بچوں اور ملازمین کے جوتوں سمیت مجموعی طور پر 1 لاکھ 43 ہزار روپے مالیت کے فٹ ویئر پر ہاتھ صاف کیا۔

یہ بھی پڑھیے جرمنی: گھر میں ہوئی عجیب چوری نے پولیس کو بھی حیران کردیا

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے 68 ہزار روپے کے 2 مردانہ جوتوں کے جوڑے، 50 ہزار روپے کا لیڈیز جوتا، 20 ہزار روپے کے بچوں کے شوز اور 5 ہزار روپے کے ملازمین کے سلیپرز چرا لیے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چور صرف ڈیڑھ منٹ میں جوتے سمیٹ کر موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے چوری کا انوکھا واقعہ: واردات کے دوران چور ایگزاسٹ فین کے سوراخ میں پھنس گیا

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کی شناخت کی جا رہی ہے، جسے جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سہ فریقی ایک روزہ سیریز: سری لنکا کی انگلینڈ کے خلاف شاندار فتح، کونسے ریکارڈ ٹوٹے؟

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

محسن نقوی کا صدر مالدیپ اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ، پاکستانی ثقافت اور صوفی قوالی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے

پی آئی اے کا نیا یونیفارم متعارف، معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے تیار کیا

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

ویڈیو

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟