ایک نئی رپورٹ کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے تجربات نے دنیا کے ہر ایک انسان کو متاثر کیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ کینسر اور دیگر بیماریوں کے باعث کم از کم 40 لاکھ قبل از وقت اموات کا سبب بنے ہیں۔
جوہری تجربات کے ہولناک اور جان لیوا اثرات پر روشنی ڈالتی ہوئی اس رپورٹ کے مطابق 1945 سے 2017 کے درمیان دنیا بھر میں 2,400 سے زائد جوہری آلات تجرباتی طور پر دھماکوں سے اڑائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا زیرِ زمین جوہری تجربات کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار
جوہری ہتھیار رکھنے والے 9 ممالک یعنی روس، امریکا، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا میں سے صرف شمالی کوریا نے 1990 کی دہائی کے بعد جوہری تجربات کیے ہیں۔
تاہم ناروے کی فلاحی تنظیم نارویجین پیپلز ایڈ یعنی این پی اےکی ایک نئی رپورٹ اس بات کی تفصیل بیان کرتی ہے کہ ماضی کے جوہری تجربات کے اثرات آج بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
'They poisoned us': grappling with deadly impact of nuclear testing https://t.co/BOj0K7NozC #Sahel #Mali
— EyeOnMali (@EyeonMali) January 22, 2026
فرانسیسی پولینیشیا سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ تاہیتی رکنِ پارلیمنٹ ہیناموئیرا کراس نے کہا کہ انہوں نے ہمیں زہر دے دیا، وہ صرف 7 سال کی تھیں جب فرانس نے 1996 میں ان کے گھر کے قریب اپنا آخری جوہری دھماکہ کیا۔
سترہ سال بعد انہیں خون کا کینسر تشخیص ہوا، جبکہ ان کے خاندان میں پہلے ہی دادی، والدہ اور خالہ تھائیرائیڈ کینسر میں مبتلا رہ چکی تھیں۔
مزید پڑھیں: کریملن کا جوہری تجربات سے انکار، امریکی تجربات کی بحالی پر مناسب جواب دیا جائے گا، روس
یہ دھماکے انسانی صحت، معاشروں اور ماحولیاتی نظام کو دیرپا اور وسیع نقصان پہنچانے کے لیے مشہور ہیں، این پی اے کی 304 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی رازداری کی مسلسل روایت، عالمی سطح پر کم توجہ اور ڈیٹا کی کمی نے متاثرہ کمیونٹیز کو آج تک جوابات سے محروم رکھا ہوا ہے۔
این پی اے کے سربراہ ریمنڈ یوہانسن کا کہنا ہے کہ ماضی کے جوہری تجربات آج بھی لوگوں کو مار رہے ہیں، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رپورٹ ’جوہری ہتھیاروں کے دوبارہ تجربے یا استعمال کو ہمیشہ کے لیے روکنے کے عزم کو مضبوط کرے گی۔‘

یہ مسئلہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب گزشتہ نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکا دوبارہ جوہری تجربات شروع کر سکتا ہے، اور روس اور چین پر اسی نوعیت کے تجربات کا الزام لگایا، جسے دونوں ممالک نے مسترد کردیاتھا۔
کولمبیا یونیورسٹی کی کیمسٹری لیکچرر اور نیوکلیئر ایج پیس فاؤنڈیشن کی سربراہ ایوانا ہیوز نے خبردار کیا کہ یہ نہایت، نہایت خطرناک ہے، ان کا کہنا تھا کہ جوہری تجربات کے نتائج انتہائی طویل المدت اور سنگین ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جوہری تجربات کا سب سے زیادہ بوجھ ان آبادیوں پر پڑا جو تجرباتی مقامات کے قریب رہتی تھیں، جو آج 15 مختلف ممالک میں واقع ہیں، جن میں کئی سابق نوآبادیاتی علاقے بھی شامل ہیں، ان علاقوں کے لوگ اب بھی بیماریوں، پیدائشی نقائص اور ذہنی صدموں کی بلند شرح کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: روس کی جوہری، بائیولوجیکل اور کیمیائی ڈیفنس فورسز کے سربراہ ریموٹ کنٹرول دھماکے میں ہلاک
یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کی پروفیسر اور رپورٹ کی شریک مصنفہ میگدلینا اسٹاکوسکی کے مطابق آج زندہ ہر انسان کی ہڈیوں میں فضائی جوہری تجربات سے پیدا ہونے والے تابکار ذرات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد پہلے ہی ان بیماریوں کے باعث جان سے جا چکے ہیں جو ماضی کے جوہری تجربات سے جڑی ہیں، سائنسی شواہد اس بات کی مضبوط تائید کرتے ہیں کہ تابکاری ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے کینسر، دل کی بیماریاں اور جینیاتی اثرات پیدا ہوتے ہیں چاہے ان کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
ماہرِ صحت ٹل مین رف نے کہا کہ 1980 تک کیے گئے فضائی جوہری تجربات وقت کے ساتھ کم از کم 20 لاکھ اضافی کینسر اموات کا سبب بنیں گے، جبکہ اتنی ہی تعداد میں دل کے دوروں اور فالج سے قبل از وقت اموات متوقع ہیں۔
مزید پڑھیں: زمین خطرے سے باہر ناسا اب چاند بچانے کے لیے کوشاں، معاملہ کیا ہے؟
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جن ریاستوں نے جوہری تجربات کیے، ان میں آج بھی رازداری کی مضبوط ثقافت موجود ہے۔ مثال کے طور پر کیریباتی میں برطانیہ اور امریکا کی جانب سے صحت اور ماحول پر کی گئی تحقیقات تاحال خفیہ ہیں، جبکہ الجزائر میں فرانس کے دفن کردہ تابکار فضلے کے مقامات بھی ظاہر نہیں کیے گئے۔
کسی بھی جوہری طاقت نے ان تجربات پر کبھی باضابطہ معافی نہیں مانگی، اور جہاں معاوضہ دیا بھی گیا وہاں یہ اسکیمیں متاثرین کی حقیقی مدد کے بجائے ریاستی ذمہ داری محدود کرنے کے لیے بنائی گئیں۔












