بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بیلگاوی کے نواحی علاقے ماچھے گاؤں میں منعقدہ اکھنڈا ہندو سمّیلن کے دوران مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی ہندو رہنما ہرشیت ٹھاکر سمیت 7 افراد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس میں درج شکایت کے مطابق ہرشیت ٹھاکر اتوار کے روز اکھنڈ ہندو سمّیلن سے قبل نکالے گئے جلوس میں کھلی گاڑی میں سوار تھیں۔ جب جلوس پیراناواڈی کے قریب واقع انصاری درگاہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مبینہ طور پر تیر چلانے کے انداز کا ہاتھ کا اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کے لیے بھی بھارت میں جگہ تنگ، وال اسٹریٹ جرنل نے مودی کے بھارت کا بدنما چہرہ عیاں کردیا
شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ اشارہ ’جئے شری رام‘ کے نعروں کے ساتھ کیا گیا، جس سے دوسری مذہبی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔
یہ مقدمہ عبدالقادر مجاور نامی شہری کی شکایت پر بیلگاوی رورل پولیس نے درج کیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے، مختلف طبقات کے درمیان نفرت پھیلانے سے متعلق دفعات کے تحت کارروائی کی ہے۔
ہرشیت ٹھاکر کے علاوہ اکھنڈا ہندو سمّیلن کے منتظمین سپریت سمپی، شری کانت کامبلے، بیٹاپا تاریہل، شیواجی شاہاپورکر، گنگارام تاریہل اور کلاپا کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی تقاریر کیں جو فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا سکتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے ’بھارت سے وابستگی کا احساس نہیں ہوتا‘، بھارتی مسلمان طالبہ پھٹ پڑیں
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔
علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سیکیورٹی بھی تعینات کر دی گئی ہے۔












