وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا، دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز معمول کی بات ہے جو جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ یہ لوگ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ، پی ٹی آئی پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں قیام امن صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔
احسن اقبال نے کہاکہ ہم نے 2018 میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن بعد میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دہشتگردوں کو یہاں لا کر بسایا، جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نکل جائیں، لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ مجھے دہشتگردوں کے حمایتی نظر آتے ہیں۔
قبل ازیں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔














