عیدالفطر کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی چاند کی پیدائش سے متعلق نئی پیشگوئی

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محکمہ موسمیات نے عید کے چاند کی پیدائش کے حوالے سے نئی پیشگوئی کردی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسی روز چاند نظر آنا ممکن نہیں۔

چاند کی پیدائش اور عمر

انجم نذیر نے وضاحت کی کہ چاند 19 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا، جبکہ غروب آفتاب تک چاند کی عمر صرف 12 گھنٹے کے قریب ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ عام طور پر چاند ٹیلی اسکوپ کے ذریعے تب نظر آتا ہے جب اس کی عمر 14 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو، اس لیے 12 گھنٹے عمر والے چاند کو دیکھنا سائنس کے مطابق ممکن نہیں، حتیٰ کہ ٹیلی اسکوپ کے ذریعے بھی دیکھنا مشکل ہے اور عام آنکھ سے تو بالکل ناممکن ہے۔

رمضان کے روزے اور عید کی متوقع تاریخ

ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق اس سال رمضان کے مکمل 30 روزے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور پہلی شوال یعنی عید ممکنہ طور پر 21 مارچ بروز ہفتہ کو ہوگی، تاہم اس کا حتمی اعلان صرف رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘