بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ مختلف عالمی سفارتکار پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف کررہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی برادری کا یہ بڑھتا ہوا اعتماد حکومت کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ تجارتی معاہدوں، مالی تعاون اور معاشی اصلاحات کے عمل کو بھی مزید تقویت مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کے ثمرات، عالمی سطح پر بھی پذیرائی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بروقت اور مؤثر حکمت عملی اپنائے تو اس عالمی اعتماد کو ملکی معیشت کی بہتری اور طویل المدتی استحکام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
’عالمی اداروں کا اعتماد ثبوت ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے‘
سیاسی تجزیہ کار رانا عثمان کے مطابق معرکہ حق کے بعد جس انداز میں پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے، وہ نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی ایک اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو جس طرح سراہا جا رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ دونوں قیادتوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وہی ’ون پیج‘ پالیسی ہے جس کے تحت سیاسی اور عسکری قیادت ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے یکجا ہو کر کھڑی نظر آتی ہے۔
عثمان رانا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے، بالخصوص آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی سمت پر اطمینان کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
ان کے مطابق آئی ایم ایف کا اعتماد نہ صرف معاشی استحکام کی علامت ہے بلکہ اس سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملتی ہے، جو کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
’سیاسی و عسکری قیادت کے مل کر آگے بڑھنے سے ملک ترقی کرےگا‘
عثمان رانا کا مزید کہنا تھا کہ اگر سیاسی اور عسکری قیادت اسی طرح مل کر آگے بڑھتی رہیں اور باہمی کوآرڈینیشن برقرار رہی تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق مضبوط سیاسی و عسکری ہم آہنگی کے نتیجے میں پالیسیوں میں تسلسل آئے گا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملکی و غیر ملکی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں کاروبار کے حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ملنے والی یہ تعریفیں پاکستان کے لیے خوش آئند ضرور ہیں، تاہم اصل فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔
’اگر آنے والے برسوں میں اسی طرح سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف معاشی استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ ترقی کی نئی منازل بھی طے کر سکتا ہے۔‘
’پاکستان تاحال عالمی کامیابیوں کے معاشی فوائد سمیٹنے میں ناکام ہے‘
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد سفارتی محاذ پر پاکستان کی پوزیشن خاصی مضبوط ہوئی ہے۔
’عالمی سطح پر دفاعی معاہدوں اور دفاعی سازوسامان کی فروخت کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم اس تمام صورتحال کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو مکمل طور پر مثبت نہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اگرچہ گزشتہ 7 سے 8 ماہ کے دوران سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، لیکن پاکستان تاحال ان کامیابیوں کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس ضمن میں کوئی بڑی پیشرفت نظر نہیں آتی۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی اداروں اور اہم بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، تاہم درآمدات، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے شعبوں میں پاکستان کو اب تک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، اور ان عالمی تعریفوں کو معاشی فوائد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
ان کے مطابق یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد اس مرحلے تک پہنچے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر عملی نتائج سامنے نہ آئے تو ان تعریفوں کی اثر پذیری بھی کم ہوتی چلی جائے گی۔
’عالمی پذیرائی کو ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا‘
سیاسی ماہر احمد ولید کہتے ہیں کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں نقطہ نظر میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
’سفارتی محاذ پر پاکستان کی آواز مضبوط ہوئی ہے اور سیاسی و عسکری قیادت کو عالمی اداروں اور طاقتوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ وہ موقع تھا جس سے پاکستان اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکتا تھا، مگر بدقسمتی سے اب تک اس عالمی پذیرائی کو ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔‘
احمد ولید کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد دنیا میں پاکستان کے حوالے سے سوچ مکمل طور پر بدل چکی ہے، عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست اور خطے میں استحکام کے ضامن کے طور پر دیکھ رہی ہیں، تاہم پاکستان وہ فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں ممکن تھا۔
ان کے مطابق محض تعریفیں اور بیانات کافی نہیں ہوتے، بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے واضح اور مؤثر لائحہ عمل ناگزیر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس عالمی اعتماد کو غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے، تجارتی معاہدوں اور طویل المدتی معاشی شراکت داریوں میں تبدیل کر سکتا ہے۔
’حکومت کو چاہیے کہ کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کرائے‘
’عالمی سطح پر مثبت تاثر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کرائے، پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنائے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرے۔‘
احمد ولید کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر ایک جامع معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس کے تحت عالمی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو صرف سفارتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے عملی معاشی فوائد سے جوڑا جائے۔
انہوں نے کہاکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی توجہ اور اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے، اور یہ ایک قیمتی موقع ضائع ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: عالمی سطح پر مؤثر کردار کا پھر اعتراف، پاکستان اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح پر ملنے والی تعریف پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے، مگر اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس تعریف کو معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح میں تبدیل کیا جائے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عالمی اعتماد کو ٹھوس معاشی نتائج میں ڈھالے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔













