بھارت میں صحت کے ناقص نظام اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کی ایک اور دل دہلا دینے والی مثال ریاست اڈیشا میں سامنے آئی ہے، جہاں ایک 75 سالہ بزرگ کو اپنی فالج زدہ بیوی کے علاج کے لیے 300 کلومیٹر طویل سفر سائیکل رکشہ پر طے کرنا پڑا۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والا بھارت آج بھی اپنے عام شہری کو بنیادی طبی سہولت فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
دیہی علاقوں میں علاج ناپید
اڈیشا کے ضلع سمبل پور کے علاقے موڈی پاڑہ کے رہائشی بابو لوہار کی 70 سالہ بیوی جیوتی کو فالج کا دورہ پڑا، مگر مقامی اسپتال اور ڈاکٹر اس کے علاج سے قاصر رہے۔ انہیں بتایا گیا کہ بہتر علاج صرف کٹک کے ایس سی بی میڈیکل کالج و اسپتال میں ممکن ہے، جو سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں مسیحی پادری کو زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ، ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی
یہ صورتحال دیہی بھارت میں صحت کے ڈھانچے کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
ایمبولینس خواب بن گئی
علاج کے لیے فوری اور محفوظ سفر ہر مریض کا بنیادی حق ہوتا ہے، مگر غربت اور ریاستی بے حسی کے باعث بابو لوہار نجی ایمبولینس کا خرچ برداشت نہ کر سکے، جبکہ سرکاری سطح پر کوئی متبادل سہولت دستیاب نہ تھی۔ مجبوراً انہوں نے اپنی پرانی سائیکل رکشہ کو ہی عارضی ایمبولینس بنا لیا۔
9 دن کا غیر انسانی سفر
عمر، تھکن اور بیماری کے باوجود بابو لوہار نے دن رات رکشہ چلا کر 9 دن میں یہ سفر مکمل کیا۔ نہ راستے میں مناسب قیام گاہیں تھیں، نہ مریض کے لیے طبی نگرانی، اور نہ ہی ریاستی اداروں کی کوئی مدد۔
یہ سفر بھارت میں مریضوں کو درپیش مشکلات کی ایک زندہ تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔
واپسی میں حادثہ، نظام کی مزید ناکامی
2 ماہ کے علاج کے بعد جب بزرگ جوڑا واپس روانہ ہوا تو چودوار کے قریب ایک گاڑی نے ان کے رکشہ کو ٹکر مار دی، جس سے خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔
یہ حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف صحت بلکہ سفر کا بنیادی تحفظ بھی عام شہریوں کو میسر نہیں۔
یہ بھی پڑھیے انڈیا میں ایک ارب لوگوں کے پاس اشیائے ضروریہ خریدنے کے پیسے نہیں، رپورٹ میں انکشاف
حادثے کے بعد قریبی ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر وکاس نے نہ صرف دونوں کا علاج کیا بلکہ اپنی جیب سے مالی مدد بھی فراہم کی۔ یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں اکثر افراد کو ریاستی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ایک کہانی، ہزاروں سوالات
بابو لوہار کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ایک دوسرے کے سوا کچھ نہیں۔‘
یہ جملہ بھارت کے ان لاکھوں شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے جو غربت، بیماری اور ریاستی غفلت کے درمیان زندگیاں گزار رہے ہیں۔
یہ واقعہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو بروقت علاج، محفوظ سفر اور بنیادی سہولتیں فراہم نہ کر سکے تو ترقی کے دعوے کس حد تک درست ہیں؟












