وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اندرونی تقسیم کا شکار ہوچکی ہے، کسی احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریکِ انصاف کے اندر 5 سے 6 چھوٹے چھوٹے گروپس موجود ہیں، 8 فروری کو یہ کیا احتجاج کریں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے تحریکِ انصاف کی طرف سے کوئی سنجیدہ جواب نہیں آیا۔ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ خود نہ لینے سے ہی ان کی بددیانتی ظاہر ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے، لیکن ذمہ داری نہیں لینا چاہتی۔
محمود اچکزئی کے ساتھ کسی بھی وقت ہاتھ ہو سکتا ہے۔ وزیرِ دفاع… pic.twitter.com/g2hUjHJ82o— WE News (@WENewsPk) January 26, 2026
مزید پڑھیں: قانون نافذ کرنا ہمارا کام، مذاکرات جن کی ذمہ داری ہے وہی کریں گے، محسن نقوی کا پی ٹی آئی کو پیغام
انہوں نے کہاکہ پہلے ایک ڈیڑھ سال میں انہوں نے خوب شور مچایا، لیکن اب ان کی ہوا نکلتی جا رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کو سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کی حکومت کی ناقص کارکردگی نے پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے حوالے سے تحریکِ انصاف کی طرف سے کوئی سنجیدہ جواب نہیں آیا۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خود نہ لینے سے ہی ان کی بددیانتی ظاہر ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے، لیکن ذمہ داری نہیں لینا چاہتی۔
مذاکرات کے حوالے سے تحریکِ انصاف کی طرف سے کوئی سنجیدہ جواب نہیں آیا۔ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ خود نہ لینے سے ہی ان کی بددیانتی ظاہر ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے، لیکن ذمہ داری نہیں لینا چاہتی۔
محمود اچکزئی کے ساتھ کسی بھی وقت ہاتھ ہو سکتا ہے۔ وزیرِ دفاع… pic.twitter.com/g2hUjHJ82o— WE News (@WENewsPk) January 26, 2026
انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ محمود اچکزئی کے ساتھ کسی بھی وقت ہاتھ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو عام انتخابات کے 2 سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے، اور قوم سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرنے کی اپیل کی ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ہم مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن عمران خان کو نفی کرکے کوئی بات چیت نہیں کی جائےگی۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ مشروط مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوتے، پی ٹی آئی ٹیبل پر بیٹھے گی تو تمام مسائل کا حل نکل آئےگا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں مذاکرات کے حامی گروپ کی سوچ غالب آگئی، فواد چوہدری
حکومت نے کچھ عرصہ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف سراپا احتجاج ہے۔













