کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

منگل 27 جنوری 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممتاز ادیب انتظار حسین کے فکشن اور نان فکشن میں درختوں سے محبت اور ان کے کٹنے سے دل پر کٹاری چلنے پر میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ میرے لیے اس موضوع سے تعلق کا اعادہ گزشتہ ماہ حلقہ اربابِ ذوق میں انتظار صاحب کی پیدائش کو سو سال پورے ہونے کی مناسبت سے خصوصی اجلاس میں ہوا جہاں معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی نے صدارتی خطبے میں ان کی تحریروں کی عصری معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے ناول ’آگے سمندر ہے‘ کا حوالہ دیا اور درخت کٹنے پر اس میں شامل ایک قدیم روایت کو موجودہ صورت حال سے ملا کر دیکھا۔

فراقی صاحب نے ناول کے جس خاص حصے پر بات کی وہ میرے دل میں اتر گیا۔ اس میں ام رقیبہ دبنگ لہجے میں حاکم اور قاضی کو چیلنج کرتی ہے:
“اے بزرگ قاضی، ابن ابی عامر کا قلب تنگ اور قصر پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کی ماں اس کے سوگ میں بیٹھے، اب میرے گھر کا صحن اس کی زد میں ہے۔ میر عمارت نے قصر کی توسیع کے لیے لازم جانا ہے کہ میرے گھر کی دیوار گرائی جائے اور میری آنکھوں کے نور میری کھجور کو کاٹ دیا جائے۔

قاضی نے تامل کیا۔ پھر سوال کیا: اے شریف خاتون، کیا ابوالمنصور کو تیرے صحن کی زمین کے مطلوبہ ٹکڑے کا معاوضہ ادا کرنے میں تامل ہے۔ اس پر ام رقیبہ قدرے برہم ہوئی اور بولی : اے منصفی کرنے والے تو نے یہ عجب سوال کیا۔ ابی عامر کا بیٹا میرے صحن کے اس ٹکڑے کی قیمت تو ادا کر دے گا، مگر کیا میرے شجر کی بھی کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔
قاضی نے یہ سنا اور سرجھکا لیا۔ وہ لاجواب ہو گیا تھا۔”
صاحبو ! مسئلہ آج بھی قلب کی تنگی اور قصر کی فراخی کا ہی ہے۔ اقبالؔ نے فقیہِ شہر سے جو تقاضا کیا تھا وہ بدباطن حکمرانوں سے بھی کیا جا سکتا ہے:
فقیہِ شہر کی تحقیر کیا مجال مری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
انتظار حسین نے 60 کی دہائی میں درخت گرانے کے خلاف دہائی دینا شروع کی تھی اور پھر عمر بھر درختوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔
انتظار حسین کی طرح ساٹھ کے عشرے میں ایک اور صاحبِ بصیرت ادیب محمد سلیم الرحمان نے شہروں کی بربادی کے آثار دیکھ کر مہیب خطرات سے چوکنا کرنے کی کوشش کی تھی۔

سنہ 1961 میں معروف مصور اور دانشور حنیف رامے کے زیرِادارت رسالے ’نصرت‘ میں محمد سلیم الرحمان نے معاون مدیر کی حیثیت سے ”فطرت سے دشمنی“ کے عنوان سے اداریہ میں جو لکھا تھا وہ 65 سال بعد کہیں زیادہ حسبِ حال ہے۔

شہر کبھی ایک ڈھب پر نہیں رہتے اور انہیں رفتہ رفتہ اندرون کے تنگنائے سے باہر نکلنا ہوتا ہے، شروع شروع میں اس تبدیلی کا رخ مثبت سمت میں تھا کیوں کہ سلیم صاحب کی دانست میں اس تبدیلی میں توازن تھا۔ اس میں سایہ دار چوڑی سڑکیں، دو رویہ درخت اور باغات سے ماحول کو طراوت ملی اور آدمی فطرت اور شہر کے قریب ہو گیا۔

اس سنجوگ کا سلسلہ دراز نہیں ہوا اور آہستہ آہستہ اس میں بدصورتی کے پیوند لگنے لگے جن کی طرف سلیم صاحب نے کچھ یوں توجہ دلائی تھی:
“اس نئے شہر کا بھی زوال نردیک تھا۔ آبادی بڑھ رہی تھی۔ ہر بڑا شہر صنعت کاری اور کارخانوں کا مرکز بن رہا تھا ۔ اینٹوں اور سیمنٹ کے بدصورت مکان، کارخانے یا بس سڑکیں کسی زہریلی مکڑی کے جال کی طرح اپنا دائرہ وسیع کرتے رہے اور ہر سبز قطعہ اس مکھی کی مانند تھا جو مکڑی کے جالے میں پھنس کر رس اور زندگی سے خالی ہوتی جاتی ہے۔”

وہ جدید شہر کے دو بڑے مسئلے گنواتے ہیں جو آج پہلے سے زیادہ بھیانک صورت میں ہمارے سامنے ہیں:

“زیادہ سے زیادہ مکان اور زیادہ سے زیادہ چوڑی سڑکیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کاریں ان پر سے گزرتی رہیں۔ بے شک زیادہ مکان بننے چاہییں تاکہ لوگ آرام سے رہ سکیں لیکن وہ مکان اور بلڈنگیں یبوست کی مثال نہ ہوں جہاں لوگ مشینوں کی طرح رہیں اور انہیں نہ آسماں نظر آئے نہ پاؤں تلے مٹی۔

اگر آئندہ ہمارے حصے میں صرف کاروں سے بھری ہوئی سڑکیں، چہروں اور چیخ پکار سے پراگندہ بلڈنگیں اور بازار ہی آئیں گے تو بہتر ہے کہ ہم پہلے ہی اپنے لیے کوئی امن کا گوشہ ڈھونڈ لیں۔ ہمیں بڑے شہروں کو خیرباد کہہ دینا چاہیے یا پھر بڑے شہر کے منصوبہ بنانے والوں کو فطرت کی دشمنی سے ہاتھ اٹھا لینا چاہیے۔”
منصوبہ سازوں نے فطرت کی دشمنی سے ہاتھ تو کیا اٹھانا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی تعدی میں اضافہ ہوا اور معاملہ ’کس روز ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے‘ کے مصداق ہو گیا۔

انتظار حسین اور محمد سلیم الرحمان کی بات اس لیے بہت زیادہ باوقعت ہے کہ یہ اس وقت بلند ہوئی کہ اسے سن لیا جاتا تو ہم اس عذاب میں مبتلا ہونے سے بچ جاتے۔ لیکن زمانے کی اپنی ریت ہے جس کے بارے میں سلیم صاحب کے ایک قول کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے :
“جو لوگ اپنے عہد کے ضمیر کی گہرایوں میں اتر کر پیش گوئی کرتے ہیں کہ برے دن آنے والے ہیں ان کی دانائی پرکوئی کان نہیں دھرتا۔”

سلیم صاحب کی لاہور میں بودو باش کی تاریخ 75 برسوں پر پھیلی ہے۔ اس عرصے میں اس شہر کے بدلتے قالب کو انہوں نے ایک حساس انسان کی نظر سے دیکھا ہے۔ ان کے اندیشے درست ثابت ہوئے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ میرا لاہور نہیں ہے۔ شہر کے خدوخال میں تبدیلی پر سلیم صاحب کے کرب نے مختلف اصناف میں راہ پائی ہے۔

’نصرت‘ کے اداریے کا حوالہ اوپر آ چکا ہے۔ اس کے بعد کبھی افسانے میں تو کبھی نظم میں، کبھی کسی مضمون میں تو کبھی ہمدمِ دیرینہ کے نام چٹھی میں انہوں نے کڑا درد بیان کیا ہے۔ ان سب میں سے کشید کردہ تلخابہ پینے کے لیے آپ تیار ہو جائیں جس کا پہلا جرعہ ’ساگر اور سیڑھیاں‘ سے پیش کیا جاتا ہے۔

سلیم صاحب کے اس افسانے کا تذکرہ میں نے سب سے پہلے زاہد ڈار سے سنا جن کا خیال تھا یہ افسانہ اردو میں شعور کی رو کی بہترین مثال ہے۔ یہ سلیم صاحب کا پہلا افسانہ ہے جو انہوں نے سنہ 1962 میں تحریر کیا تھا۔ ’سویرا‘ میں پہلی اشاعت کے بعد یہ اختر حسین جعفری اور اسلم سراج الدین کے کتابی سلسلے ’فردا‘ میں سنہ 1988 میں شائع ہوا تو لکھنؤ میں معروف فکشن نگار نیر مسعود کو یہ بالکل نیا افسانہ لگا۔
نیر مسعود نے لکھا:
’’اس ایک افسانے میں آپ نے اتنے بہت سے افسانے سمو دیے ہیں۔ اس کی کیفیت کا صحیح اندازہ اسے کئی بار پڑھے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر اور متحیر کیا وہ یہ ہے کہ ایک طرف یہ افسانہ طویل اوڈیسی کا تاثر دیتا ہے، دوسری طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک لمحے کے خواب کا بیان ہے۔ آپ کے پاس یادوں کا عجیب و غریب ذخیرہ ہے اور اس میں بہت سی میری اپنی یادیں معلوم ہوتی ہیں۔”

سلیم صاحب کے افسانے میں بہت کچھ ہونے کی طرف نیر مسعود نے اشارہ کیا لیکن ہم نے اس میں سے درخت کے بارے میں ایک حوالہ اٹھانا ہے۔ توسیع شہر کی ہو یا گھر کی، اس میں سب سے پہلے درختوں کی شامت آتی ہے۔ ’ساگر اور سیڑھیاں‘ میں پیڑ کٹنے سے بچانے میں ناکامی کا رنج ہے اور املی کے پرانے پیڑ کا بیان بھی شامل ہے جس سے راوی کو بڑی محبت تھی:

“اس پر طرح طرح کی چڑیاں آکر بیٹھا کرتی تھیں، املیاں آتی تھیں اور تنے پر ہر وقت موٹے موٹے چیونٹے اور کھلنڈری گلہریاں دوڑتی رہتی تھیں۔ اس کے کٹنے کا مجھے بڑا رنج ہوا اور دل میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میں وقت پر اس کے کام نہیں آیا۔ پرسوں رات کیا دیکھتا ہوں کہ اسی پیڑ کے نیچے لیٹا ہوں۔ بادل آجا رہے ہیں۔ چڑیاں لڑ رہی ہیں۔ میں نے کہا: ارے تو تو کٹ گیا تھا! کہنے لگا دیکھ لو! میں نے کہا: میری خطا معاف کرو اب کے نہیں کٹنے دوں گا۔ کہنے لگا: اب تو میں تمھارے اندر اگا ہوں ،کون کاٹ سکتا ہے، تم خود کوشش کرکے دیکھو۔میں نے کہا :ہیں! کہنے لگا :اور کیا ؟ ہمت ہے تو آجاؤ”

اس عبارت میں جو یہ عزم ہے کہ اب میں پیڑ نہیں کٹنے دوں گا۔ اس پر سلیم صاحب نے عملی طور پر عمل کر کے دکھایا ہے، داروغہ والا چھوڑنے سے ان کے انکار کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے محبوب درختوں پر ان کی زندگی میں آرا چلے۔

انتظار حسین کے ناول ’تذکرہ‘ میں اخلاق مالک مکان سے یہ استدعا کرتا ہے کہ اس کے گھر چھوڑنے سے پہلے درخت پر وار نہ کیا جائے۔ سلیم صاحب کی شرط اس سے بڑھ کر ہے کہ ان درختوں کے ساتھ ان کی زندگی میں چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔

جس سال سلیم صاحب نے ’ساگر اور سیڑھیاں‘ لکھا اس برس انہوں نے وہ نظم کہی جس سے درخت سے ان کی رشتے کی نوعیت کی تفہیم ہوتی ہے:
ہرے بھرے درخت، تم میری دنیا میں
ان جنتوں کی یادگار ہو جنہیں میں کھو چکا
تمھارا ہلکا سبز پھن ،کتنا اونچا
نیلے آسمان میں سرسرا رہا ہے
تم جو ہواؤں اور پرندوں کو موہنے والی
سورج کو سبز رنگ لوٹانے والی محویت ہو
جب پت جھڑ میں تمھارے نازک پتے
لال پیلے شعلوں کی طرح بکھر بکھر کر
خاک میں ملتے جاتے ہیں
تو میں دکھ سے پیلا پڑ جاتا ہوں
کہ ہر ٹوٹتے پتے میں
میری تھوڑی سے جان ضائع ہو جاتی ہے

اب سلیم صاحب کی ایک اور نظم پڑھتے ہیں جو سنہ 1980 میں کہی گئی تھی لیکن اب بھی تازہ ہے۔ یہ اس شہر کی کتھا ہے جس کا باطن نہیں رہا اور وہ ظاہر ہی ظاہر ہے:
ایک بگٹٹ شہر کے آگے پیچھے

یہ شہر خود ہی خوف ہے؛
اُمّید سے خالی بھی یہ،
اُمّید سے آباد بھی۔
رِستی ہوئی، گلتی ہوئی، اک بے نتیجہ یاد بھی۔
شورو شغب کا یہ کھنڈر،
اس میں بھی پنہاں ہیں بہت
خاموشیوں کے مکروفن؛
ہر رنگ کے سو واہمے، اُلٹی متوں کا بانکپن۔
ہر نقل میں اک اصل ہے،
ہر اصل میں کچھ کھوٹ سی
گہنا چکا سب کچھ یہاں،
ہر برزن و بازار میں پھر بھی ہے میلے کا سماں۔
آوے کا آوا ہی غرض
بگڑا ہوا ہے خیر سے
دیکھا بہت کچھ پھونک کر،
پوری نہیں ہوتی کبھی اک آنچ کی جو ہے کسر
زندانِ بے دیوار سے
بچ کر کوئی جائے کہاں؟
ہیں خود یہاں پر قید بھی
اور خود ہی پہرے دار بھی، صیاد بھی اور صید بھی۔
اس شہر کا ظاہر تو ہے،
باطن کا قصّہ پاک ہے
خودبینیاں، خود روئیاں؛
باقی ہمیشہ ہیں یہاں آنکھوں کی جو ہیں سُوئیاں۔
آشوب بھی، آسیب بھی،
جینے کا اک انداز بھی
بِرتے ترے ہم بھی ذرا
کھیلیں جؤا، شہرِ ہوا، سایہ ہے تو تقدیر کا

سلیم صاحب نے تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی بھر دوسروں کی تخلیقی کام سے برابر اعتنا کیا ہے۔ ان پر نقد کی، انہیں سراہا اور سنوارا ہے۔ کتنے ہی نئے پرانے لکھنے والوں نے اپنی ادبی زندگی میں ان کی رہنمائی کو تسلیم کیا ہے۔ یہ سب کچھ انہوں نے استاد، ’سویرا‘ کے ایڈیٹر اور ادبی مبصر کی حیثیت میں کیا ہے۔

حالیہ عرصے میں انگریزی اور اردو کے معروف فکشن نگار اسامہ صدیق کے ناول ’غروبِ شہر کا وقت‘ کے بارے میں سلیم صاحب کی رائے اس عمل کی ایک مثال ہے جس کا ہمارے آج کے موضوع سے بھی تعلق ہے۔ انہوں نے ناول کے بارے میں اپنے تاثرات کے پہلو بہ پہلو اس رنجِ فراواں کا احوال بھی لکھا ہے جو شہر کے جون بدلنے پر ان کے حصے میں آیا ہے :

“ایک پُرانا تاریخی شہر، اپنی عظمتوں کی شام سے دوچار، اپنی ثقافت، اپنی محبوبی، رہن سہن، تعلیم، عدل و انصاف اور وسیع المشربی پر اُچٹتی، اُداس نظر ڈالتا ہوا، جو آخرکار غروب کی دل دوز ساعت میں موجود تو رہے گا مگر تقریباً گُم شدہ، جیسے خالی ہوتے گھروں میں سائے اور صدائیں رہ جائیں۔ اُسامہ صدیق کے ناول میں اسی منہ چُھپاتے شہر کی داستان ہے۔ ایک شہر جو رونقِ خیال و احوال تھا ٹوٹ پھوٹ کر حقیقی ملبوں میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ اُسامہ صدیق نے اپنے زورِ قلم سے اس کی افسردگی اور زوال کو گویا مصوّر کر دیا ہے۔ ناول نگار دُنیا کو بدل تو نہیں سکتے لیکن ہمارے سُود و زِیاں کا حساب ضرور رکھتے ہیں۔”

انسان کتنا ہی کثیر الاحباب ہو، زندگی میں ایسے محرم راز کم ہی ہوتے ہیں جن سے وہ حدیثِ دل کہہ سکے۔ زخمِ نہاں دکھا سکے۔

سلیم صاحب کے قدیمی دوستوں میں ریاض احمد اور احمد مشتاق ہمارے درمیان موجود ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔ ریاض صاحب لاہور میں ہیں اس لیے ان سے ملاقات تو رہتی ہے لیکن احمد مشتاق کی مدتوں سے امریکا میں سکونت ہے اور بقول فراق:
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
لیکن مشتاق صاحب یاروں سے دور رہ کر خطوط اور فون کے ذریعے اس دوری کا درماں کرتے ہیں۔
دوستوں سے انہی کی نہیں لاہور کی خیریت بھی دریافت کرتے رہے اور جی جلاتے رہے ۔
سلیم صاحب کے احمد مشتاق کے نام خطوں کے مختصر اقتباسات سے جہاں آپ ان کے درد کی شدت محسوس کر سکتے ہیں وہیں احمد مشتاق کے درد لادوا کا اندازہ بھی ہو سکتا ہے:
“یہ وہ شہرنہیں رہا جہاں میں آیا تھا اور خوش ہوا تھا۔ اس کی ظاہری رونق (جس میں روز اضافہ ہو رہا ہے) کے پسِ پردہ ایک اجاڑ پن ہے۔”
“شہر کا حال مت پوچھو، اتنی رونق پر بھی عجیب طرح کی ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ جب شہر میں امارت نہ تھی تو شادابی تھی۔ اب دولت کی فروانی ہے تو ویرانی ہے:

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی
اسے ہونا ہے نئے طور سے برباد ابھی

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟

حسن کیا ہے؟