فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کی قومی اسمبلی نے پیر کے روز ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ پڑے۔

منظور شدہ قانون سازی اب پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ کو بھیجی جائے گی۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اس پابندی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم فرانسیسی بچوں اور نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

صدر میکرون نے ووٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں اسے ‘ایک بڑا قدم’ قرار دیا اور کہا کہ ‘ہمارے بچوں کے دماغ فروخت کے لیے نہیں ہیں، نہ امریکی پلیٹ فارمز کو اور نہ ہی چینی نیٹ ورکس کو۔’

بل کی اہم شقیں

بل کے مسودے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس اور بڑی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود سوشل نیٹ ورکنگ فیچرز پر پابندی عائد کی جائے گی۔ تاہم آن لائن انسائیکلوپیڈیاز اور تعلیمی پلیٹ فارمز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو مؤثر عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانا ہوں گے تاکہ کم عمر بچوں کی رسائی روکی جا سکے۔ اس کے علاوہ جونیئر اسکولوں میں اسمارٹ فون پر موجودہ پابندی کو بڑھا کر ہائی اسکولوں تک بھی نافذ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے

حکام کا کہنا ہے کہ نئے اکاؤنٹس کے لیے یہ اقدامات 2026 کے تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ کیے جائیں گے۔

پابندی کی وجہ کیا ہے؟

فرانس، آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہوگا جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے باعث بچوں کی ذہنی نشوونما، ذہنی صحت اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوعمر بچوں، خاص طور پر لڑکیوں، پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان خطرات میں سائبر بُلنگ اور پرتشدد مواد تک رسائی شامل ہے۔

عوامی حمایت

ملک میں اس قانون کی وسیع حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ 2024 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 73 فیصد عوام 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے حق میں ہیں۔

بل پیش کرنے والی سینٹرسٹ رکنِ پارلیمنٹ لاورے کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے ہم معاشرے میں ایک واضح حد مقرر کر رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا بے ضرر نہیں۔ ہمارے بچے کم پڑھ رہے ہیں، کم سو رہے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ موازنہ کر رہے ہیں۔ یہ آزاد ذہنوں کی جنگ ہے۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

افغان طالبان کی پروپیگنڈا مہم جاری، شہری علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دینے لگے

موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے معاملے میں شہریوں کو ہراساں نہ کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

پاکستان میں مثبت معاشی پیشرفت، فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا