عالمی قانون کی حکمرانی صرف بیانات سے قائم نہیں رہ سکتی، پاکستان

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون صرف اعلانات سے نہیں بلکہ مستقل طرزِ عمل اور قابلِ اعتبار احتساب سے برقرار رہ سکتا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ اگر کثیرالجہتی نظام کو زندہ رکھنا ہے تو طاقت کے بجائے قانون، مصلحت کے بجائے اصول، اور بے سزا رویوں کے بجائے انصاف کو فوقیت دینا ہوگی۔

یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان تھا
عالمی قانون کی حکمرانی کی توثیق: امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کی بحالی کے راستے۔

صومالیہ کی صدارت اور اعلیٰ سطحی مباحثے کا خیرمقدم

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی موجودہ صدارت پر صومالیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس اہم مباحثے کے انعقاد کو بروقت اور نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون سے متعلق سال بھر جاری اعلیٰ سطحی سفارتی مکالمے کا تسلسل ہے۔

بین الاقوامی قانون کی کمزوری عالمی عدم استحکام کا سبب

پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے عالمی تنازعات، انسانی بحرانوں اور کمزور کثیرالجہتی تعاون میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کا مقصد ریاستوں کے طرزِ عمل کو متعین اصولوں کا پابند بنا کر عالمی نظام میں استحکام پیدا کرنا ہے، لیکن جب اس کا اطلاق انتخابی ہو جائے تو قانون اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ

انہوں نے زور دیا کہ ایک پُرامن اور مستحکم عالمی نظام اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی حکمرانی منصفانہ، مستقل اور بلاامتیاز ہو۔

قانون کے بجائے طاقت کے استعمال پر تشویش

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ آج اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول ’ریاستوں کی خودمختار برابری، عدم مداخلت، علاقائی سالمیت، طاقت کے استعمال کی ممانعت اور حقِ خودارادیت‘ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منشور سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانا اجتماعی سلامتی کو نقصان پہنچاتا اور کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔

بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا حقِ دفاع

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مئی میں بھارت نے پاکستان کے خلاف بلااشتعال فوجی جارحیت کی، جو بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کو ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، اور یہ پیغام دیا کہ جبر اور بے سزا رویوں پر مبنی کوئی نیا معمول قابلِ قبول نہیں۔

کشمیر مسئلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑ

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے مسلسل انکار سنگین انسانی حقوق کے مسائل کو جنم دے رہا ہے اور خطے میں پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر سخت ردِعمل

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور یہ اقدام لاکھوں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ معاہدوں کی پاسداری عالمی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔

تنازعات کے پُرامن حل سے پاکستان کی وابستگی

پاکستان نے واضح کیا کہ وہ تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ اس حوالے سے سفیر نے گزشتہ جولائی میں سلامتی کونسل کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد 2788 کا حوالہ دیا، جس میں مکالمے، ثالثی اور عدالتی تصفیے کو تنازعات کے حل کا اولین ذریعہ قرار دیا گیا۔

عالمی جنوب، اصلاحات اور دہرا معیار

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہرا معیار اور قوانین پر عدم عملدرآمد کے باعث عالمی نظام اکثر ترقی پذیر ممالک، بالخصوص عالمی جنوب، کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ تاہم اس کے باوجود یہ ممالک اقوامِ متحدہ کے منشور اور ایک منصفانہ عالمی نظام پر اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان میں دہشتگردوں کو جدید اسلحے کی فراہمی امن کے لیے خطرہ، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ

انہوں نے اقوامِ متحدہ میں ایسی اصلاحات پر زور دیا جو طاقت اور مراعات کے بجائے برابری، جمہوریت اور احتساب پر مبنی ہوں۔

فلسطین اور سلامتی کونسل کی ساکھ

سفیر عاصم افتخار نے فلسطین کی صورتحال کو بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں عالمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اقوامِ متحدہ کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔

قانون کی پاسداری بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی تجاویز

پاکستان نے سلامتی کونسل کو تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی کرے، قانونی تنازعات میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے زیادہ منظم رجوع کیا جائے، قانونی امور کے دفتر کی باقاعدہ بریفنگز کو ادارہ جاتی حیثیت دی جائے اور اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی سی جے کی مشاورتی آراء سے زیادہ استفادہ کریں۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی قانون کی حکمرانی محض الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے قائم رہتی ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور سے ماخوذ ایک ایسے عالمی نظام کے لیے پُرعزم ہے جہاں تنازعات پُرامن طریقے سے حل ہوں، ذمہ داریاں نبھائی جائیں، اور اقوامِ متحدہ امن، انصاف اور انسانی وقار کی حقیقی ضامن ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی

’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری

کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی