پاکستان کے سابق کرکٹ اسٹار محمد یوسف نے ایک ٹوئٹ میں عالمی کرکٹ کی گورننس اور فیصلوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
محمد یوسف نے لکھا کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، اسکاٹ لینڈ، نیپال، نیدرلینڈز، آئرلینڈ، نمیبیا، زمبابوے، سری لنکا اور افغانستانیہ 10 ممالک مل کر تقریباً 178 ملین کرکٹ ناظرین فراہم کرتے ہیں، جبکہ صرف بنگلہ دیش سے کرکٹ دیکھنے والوں کی تعداد 176 ملین ہے، جو تقریباً ان تمام ممالک کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کا ساتھ دینے پر پاکستان کو تنہائی کی دھمکی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
سابق قومی کرکٹر کا کہنا تھا کہ ایک ایسا کھیل جو عالمی ناظرین کی بنیاد پر چلتا ہو، اس میں بنگلہ دیش کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرنا پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ناقص گورننس کی نشاندہی کرتا ہے۔
The combined cricket viewership of
New Zealand, Australia, Scotland, Nepal, Netherlands, Ireland, Namibia, Zimbabwe, Sri Lanka and Afghanistan
is broadly equivalent to the viewership Bangladesh generates on its own.
10 nations combined:178 million
Bangladesh alone: 176 million
In…— Mohammad Yousaf (@yousaf1788) January 26, 2026
محمد یوسف نے مزید کہا کہ جب سہولیات اور فیصلے منتخب بنیادوں پر کیے جائیں تو انصاف ختم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ کو اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں اور مساوات کے تحت چلایا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی کرکٹ اسی صورت میں مضبوط ہو سکتی ہے جب تمام ممالک کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جائے۔














