انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیصلوں میں دوہرے معیار اور امتیازی سلوک ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے پاکستان کو ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے دستبرداری کی صورت میں کرکٹ تنہائی کی دھمکی دی ہے، یہ رویہ عالمی کرکٹ میں برابری اور انصاف کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ: نیدرلینڈز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل نہ کیے جانے پر آئی سی سی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے کھلا امتیاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان اور بھارت کے لیے ہائبرڈ ماڈل اپنایا جا سکتا ہے تو بنگلہ دیش کو اس سہولت سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔

محسن نقوی کے مطابق بنگلہ دیش بھی آئی سی سی کا مکمل رکن ہے اور کسی ایک ملک کو دوسروں پر فوقیت دینا کھیل کی روح کے منافی ہے۔
کرکٹ مبصرین کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈال کر اسے اپنے مؤقف سے دستبردار کرانا ہے، جو اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ آئی سی سی میں فیصلہ سازی چند مخصوص ممالک کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے پر جیسن گلیسپی نے سوالات اٹھا دیے
دوسری جانب پاکستان نے تاحال ٹی20 ورلڈ کپ سے علیحدگی کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ محسن نقوی کے مطابق اس حوالے سے آخری فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت ناانصافی پر خاموش تماشائی نہیں بنے گا اور بنگلہ دیش کے ساتھ اصولی مؤقف پر کھڑا رہے گا۔














