وزیراعظم پاکستان شہبازشریف سے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں نیب کی سالانہ رپورٹ برائے 2025 بھی پیش کی گئی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ملاقات میں نیب کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور ادارے کو ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ادارے میں تبدیل کرنے کے اقدامات کو سراہا۔
مزید پڑھیں: نیب کی ریکوری کے اعدادوشمار پر کسی کو شک ہے تو ثبوت دینے کو تیار، ڈی جی وقار چوہان
انہوں نے تحقیقاتی عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال اور نیب کے ای آفس فریم ورک کو حکومت کے کفایت شعاری اور شفافیت کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیا۔
وزیراعظم نے نیب کی عوامی خدمات پر توجہ اور پیشہ ورانہ آزادی کو بھی سراہا اور قومی وسائل کے تحفظ کے نیب کے مشن کی حمایت کا اعادہ کیا۔
چیئرمین نیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس نیب نے 6.213 کھرب روپے کی ریکوری کی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ 2.98 ملین ایکڑ ریاستی اور جنگلاتی اراضی دوبارہ حاصل کی گئی، جس کی مجموعی قیمت تقریباً 5.99 ٹریلین روپے بنتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جعلی ہاؤسنگ اور انویسٹمنٹ اسکیمز کے ایک لاکھ 15 ہزار 587 متاثرین کو 180 ارب روپے واپس دلائے گئے، جس سے عام شہریوں کا اعتماد بحال ہوا۔
مزید پڑھیں: حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام اور کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم شہباز شریف
چیئرمین نیب نے اس بات پر زور دیا کہ کھلی کچہری اور سنٹرل کمپلینٹ سیل نے بیورو اور شہریوں کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں اور نیب اب خوف اور دھمکی کے بجائے شکایات کے حل کا ذریعہ بن چکا ہے۔













