نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط ختم ہو سکتی ہے، اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھ چکا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں تاہم یہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ حکومت ایک سانحے کی وضاحت میں گزشتہ ادوار کو یاد کرتی دکھائی دی تاکہ عوامی سوالات کا رخ بدلا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ تھا، جس میں 80 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور یہ سب انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق اگر حکومت بروقت ریسکیو آپریشن کرتی تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر ٹینڈرز، فائر باؤزرز، واٹر باؤزرز اور سنورکلز موقع پر آئے مگر وہ پانی کے بغیر تھے جس کی وجہ سے آگ پر قابو نہ پایا جا سکا۔

آحکومت کا رویہ افسوسناک ہے‘

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ایک عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ حکومت نے اس سانحے کو جس انداز میں لیا وہ نہایت افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ ماضی میں بھی آر جے مال جیسے واقعات پر چند دن بحث کے بعد معاملہ ختم ہو گیا تھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔

مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے مکمل ازالے کا فیصلہ، سندھ کابینہ نے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

علی خورشیدی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے پہلے دن ہی اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا اور ہمارا ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔

’جوڈیشل کمیشن ہی حقائق سامنے لا سکتا ہے‘

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل محرکات کیا تھے، وجوہات کیا تھیں اور کن انتظامی کوتاہیوں کے باعث لوگوں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آگ بجھانے کے لیے صرف پانی پر انحصار کیوں کیا گیا اور کیا ایسے اقدامات ممکن تھے جن سے مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سوالات صرف جوڈیشل کمیشن میں ہی سامنے آ سکتے ہیں مگر حکومت نے اس کے برعکس کمشنر کراچی جو خود جوابدہ ہونا چاہیے کو ہی ایک کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا اور پھر کابینہ اجلاس میں اس کمیٹی پر ایک اور کمیٹی قائم کر دی گئی جو شہر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ

علی خورشیدی کے مطابق اپوزیشن نے اسمبلی کا پلیٹ فارم استعمال کیا، واک آؤٹ کیا اور پہلے دن سے یہی مطالبہ دہراتے رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے تو وہ انڈیپنڈنٹ جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھ دے اس سے ہماری سیاست خود ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ ہم سیاست کر رہے ہیں تو یہ ان کے لیے سنہری موقع ہے کہ ہماری سیاست دفن کر دیں۔

سیکیورٹی واپس لینے پر ردعمل

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین سے لے کر اراکین اسمبلی تک، جنہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، وہ واپس لے لی گئی۔ حتیٰ کہ اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود ان سے بھی سیکیورٹی واپس لی گئی اور افسران کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات دے دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہماری باتوں سے اس حد تک ناراض ہے کہ سیکیورٹی لینا چاہتی ہے تو لے لے ہمیں کسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کے درمیان رہتے ہیں۔

’ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی‘

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس سانحے میں بلدیہ پر ظلم ہوا ہے اور واقعی ہوا ہے تو پھر ان ظالموں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی، آخر کون ہے جو انہیں بچا کر بیٹھا ہے؟

انہوں نے وزیراعلیٰ کے اسمبلی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ لیز ماضی میں دی گئی تھی تو اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر واقعی لیز غلط دی گئی تھی، حالانکہ اس کا آگ لگنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، تو پھر جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟

یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ جن 3 میئرز کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں فاروق ستار حیات اور موجود ہیں اور رکنِ اسمبلی بھی ہیں  انہیں بلایا جائے وہ پیش ہونے کے لیے تیار ہیں مگر پھر صوبے کے وزیراعلیٰ اور موجودہ بلدیاتی نظام کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں آنا ہوگا۔

’شہر کی حالت اور ادارہ جاتی ناکامی‘

علی خورشیدی نے کہا کہ سنہ 2008 سے سنہ 2010 کے دوران کراچی دنیا کے 12 ترقی پذیر شہروں میں شامل ہونے لگا تھا مگر 17 سالہ حکمرانی کے بعد یہ شہر دنیا کے تیسرے بدترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں بتایا جا سکتا جہاں عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہوں۔ یہاں ادارے الگ چلتے ہیں اور سسٹم الگ، ایک حکومت نظر آتی ہے اور ایک سسٹم کی حکومت جو صوبائی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے میں کرپشن عام ہے اور سب کو معلوم ہے کہ کس چیز کی کیا قیمت ہے۔

نئے صوبے کے مطالبے پر آئینی مؤقف

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان انہیں صوبے بنانے کا حق دیتا ہے اور آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سندھ میں نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کا مطالبہ غیر آئینی نہیں بلکہ آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت صوبائی اسمبلی 2 تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: وزیر داخلہ سندھ کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق خبروں کی تردید

انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ترامیم بھی ہوتی ہیں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اس کی مثال ہیں اور ممکن ہے مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسپائیڈر مین میں آواز کا جادو جگانے والے وائس آرٹسٹ الیکزس اورٹیگا انتقال کرگئے

بسنت سے قبل لاہور کے فصیل بند شہر میں 346 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی

واٹس ایپ کا نیا سخت سیکیورٹی فیچر متعارف،سب سے زیادہ فائدہ کن لوگوں کو ہوگا؟

آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقریر پر اسرائیلی انفلوئنسر کی ویزا منسوخ کر دیا

کیا مریم نواز کے صاحبزادے کی شادی کی فوٹوگرافی کرنے پر عرفان احسن کو ستارۂ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا؟

ویڈیو

امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟