پاکستان کی معدنی برآمدات 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، احسن اقبال

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر پاکستان خام معدنیات کی برآمد کے بجائے ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ) پر توجہ دے تو رواں دہائی کے دوران معدنی برآمدات سالانہ 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

احسن اقبال نے بدھ کے روز اسلام آباد میں پاک چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب صرف معدنیات نکالنے تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ معدنی پروسیسنگ پلانٹس، اسمیلٹرز اور ریفائننگ سہولیات قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معدنی وسائل پر مبنی انڈسٹریل کلسٹرز قائم کرنا چاہتی ہے، جنہیں اسپیشل اکنامک زونز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے ڈیجیٹل دور میں سائبر سیکیورٹی قومی سلامتی کا اہم ستون بن چکی ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معدنی معیشت کی تبدیلی اسٹریٹجک شراکت داروں کے بغیر ممکن نہیں، اور اس عمل میں چین کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معدنی تعاون کا مستقبل ٹیکنالوجی، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے مشترکہ قدر پیدا کرنے میں ہے۔

مشترکہ منصوبوں پر زور

احسن اقبال نے کہا کہ چین جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے ساتھ پاکستان اپنی معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایسے جوائنٹ وینچرز چاہتا ہے جو نہ صرف ملکی ضروریات بلکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں کو بھی پورا کریں۔

وفاقی وزیر نے چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اور تحفظ قومی ترجیح ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ رابطوں کو پیداوار، پیداوار کو برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی میں بدلنے پر مرکوز ہے۔

احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ سی پیک کے اگلے مرحلے سے پاکستان کی زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کو جدید بنانے میں مدد ملے گی اور ملک برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔

پیٹرولیم وزیر کا بیان

فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ چین کی مدد سے پاکستان خود کو عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک قابلِ اعتماد اور طویل المدتی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے چینی کمپنیوں، سروس فراہم کرنے والوں اور مشینری سپلائرز کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری قائم کرنے کی دعوت دی۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی گروتھ نہیں، پائیدار ترقی ہدف ہے، حکومت محتاط معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے، احسن اقبال

سال 2025 کے دوران پاکستان کی چین کو معدنی برآمدات میں نمایاں اور متنوع اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون اور چین کی بڑھتی ہوئی طلب کا عکاس ہے۔

تانبا، ایلومینیم اور دیگر معدنیات کی برآمدات

چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق تانبا اور تانبے سے بنی اشیا کی برآمدات بڑھ کر 1.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں تانبے کی کانوں اور کنسنٹریٹس کی برآمدات 11 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں ایلومینیم کی کانوں اور کنسنٹریٹس کی برآمدات 0.29 ملین ڈالر سے بڑھ کر 14.16 ملین ڈالر ہو گئیں، یعنی 4,700 فیصد سے زائد اضافہ

دیگر معدنیات کی کارکردگی

دیگر معدنی اقسام میں بھی اچھی کارکردگی دیکھی گئی۔ آئرن اور اس کے کنسنٹریٹس 101 ملین ڈالر سے زائد رہے۔ مینگنیز، سیسہ، قدرتی کیلشیم فاسفیٹس، ورمیکولائٹ اور پرلائٹ نے بھی مجموعی برآمدات میں حصہ ڈالا۔

واضح رہے کہ یہ تمام معدنیات چین میں اسٹیل سازی، بیٹریوں، کھادوں اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp