بھارت میں نیپاہ وائرس کا سایہ اور ٹی20 ورلڈ کپ

جمعہ 30 جنوری 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے حالیہ کیسز نے ماہرینِ صحت کے ساتھ ساتھ عالمی اسپورٹس حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب یہ وائرس ماضی میں 40 سے 70 فیصد تک اموات کا باعث بن چکا ہے، بھارت میں شیڈول آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ حیران کن طور پر اس معاملے پر نہ تو آئی سی سی کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی طرف سے کوئی نمایاں ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی غیر ملکی ٹیموں، بالخصوص انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بعض کھلاڑیوں نے نجی گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں کھیلنے پر فکرمند ہیں جہاں مہلک وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات موجود ہوں، تاہم سرکاری سطح پر بیانات انتہائی محتاط رکھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب انشورنس کمپنیاں بھی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بعض پالیسیوں پر نظرِ ثانی یا اضافی شرائط عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو اس خطرے کی سنجیدگی کی واضح علامت ہے۔

بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں۔ اس کے ساتھ یہ مثال بھی دی جا رہی ہے کہ جاپان اور مراکش جیسے ممالک میں بھی بین الاقوامی میچز منعقد ہو چکے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان ممالک کے صحت اور صفائی کے عالمی معیار بھارت سے کہیں بہتر ہیں، جبکہ بھارت میں بنیادی صحت کے مسائل اور بڑے اجتماعات وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کے داخلے کو محدود کرنے یا مکمل پابندی کی تجویز زیرِ غور آئی، مگر عوامی ردِعمل، ممکنہ احتجاج اور سیاسی دباؤ کے باعث اس پر فیصلہ مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے کسی بھی اقدام سے ورلڈ کپ کی معاشی آمدن اور عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی کھیلوں میں دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے؟ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر اسی نوعیت کی صورتحال کسی اور ملک میں ہوتی تو شاید میچز کی منتقلی، واضح ہیلتھ ایڈوائزریز اور حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کر دیے جاتے۔

سپورٹس کے سینئر مبصر راجہ محسن کے مطابق نیپا وائرس کوئی افواہ نہیں بلکہ سائنسی طور پر تسلیم شدہ مہلک حقیقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں خاموشی، تاخیر اور سیاسی مصلحتیں نہ صرف کھلاڑیوں اور شائقین بلکہ عالمی کھیل کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

آخر میں یہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی سانحہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آئی سی سی، میزبان ملک، یا وہ عالمی ادارے جو اس وقت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ تاریخ عموماً یہی سوال دہراتی ہے کہ جب خطرہ واضح تھا، تو بروقت فیصلہ کیوں نہ کیا گیا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کی جانب سے عوامی قرض قانونی حد سے تجاوز ہونے کا اعتراف، پی ٹی آئی کا شدید ردعمل

کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد

عثمان طارق نے کیمرون گرین کو ’روتے بچے‘ سے تشبیہ کیوں دی؟

’کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ‘، جسٹس محمد علی مظہر نے بھٹو کی پھانسی کو غیر منصفانہ قرار دیدیا

دہشت گرد بلوچوں کو ایندھن بنا رہے ہیں، پاکستان کا ایک انچ نہیں لے سکتے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

ویڈیو

ریاض: پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں سالانہ اسپورٹس گالا، نظم و ضبط اور ٹیم اسپرٹ کا بہترین مظاہرہ

لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم پاکستان سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘