ایپل نے اپنی مالی سال کی شروعات مضبوط انداز میں کی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی آئی فون فروخت پہلی سہ ماہی میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ آئی فون 17 سیریز کی زبردست طلب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فولڈ ہوجانے والا آئی فون سال رواں میں لانچ ہوگا، ایپل کمپنی کہاں تانک جھانک کر رہی ہے؟
ایپل نے اس سہ ماہی میں کل آمدنی 143.8 بلین ڈالر ریکارڈ کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہے اور سنہ 2021 کے بعد سب سے تیز رفتار ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔
آئی فون کی آمدنی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 فیصد بڑھ گئی اور فروخت چین، یورپ، امریکا اور جاپان سمیت مختلف ممالک سے ہوئی۔
ایپل کے سی ای او ٹم کُک کا کہنا ہے کہ آج ایپل کو ایک شاندار، ریکارڈ توڑ سہ ماہی رپورٹ کرنے پر فخر ہے جس میں آمدنی 143.8 بلین ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ اور ہماری توقعات سے کہیں بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی فون نے اپنی بہترین سہ ماہی دیکھی جس کی بنیاد بے مثال طلب ہے اور ہر جغرافیائی علاقے میں ریکارڈ قائم کیا گیا۔
ٹم کُک نے کہا کہ ہماری سروسز نے بھی ریکارڈ ریونیو حاصل کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید ہم یہ بھی خوشی سے بتا رہے ہیں کہ ہمارے صارفین کے فعال آلات کی تعداد 2.5 بلین سے تجاوز کر گئی ہے جو بہترین مصنوعات اور خدمات کے حوالے سے صارفین کے اعتماد کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیے: آئی فون 17 پرو میکس سے لی گئی پہلی تصویر جاری
خصوصاً چین نے کمپنی کی مضبوط کارکردگی میں نمایاں کردار ادا کیا جہاں ایپل نے ریکارڈ تعداد میں نئے اپ گریڈ کرنے والوں اور دوسرے فونز سے منتقل ہونے والے صارفین کی رپورٹ دی۔
اگرچہ آئی فون اور سروسز نے مضبوط کارکردگی دکھائی تاہم دیگر شعبوں میں نتائج مخلوط رہے۔
دیگر آلات اور ویئر ایبلز کی آمدنی تقریباً 3 فیصد کم ہوئی جبکہ میک کی فروخت ہر سال 7 فیصد گر گئی حالانکہ نئے ہائی اینڈ میک بک پرو جاری کیے گئے تھے۔
دوسری جانب آئی پیڈ کی آمدنی 6 فیصد بڑھ کر 8.6 بلین ڈالر ہو گئی اور تقریباً نصف صارفین نے پہلی بار آئی پیڈ خریدا۔
مزید پڑھیں: وہ 7 ممالک جہاں آئی فون 17 کی قیمت پوری دنیا سے کم ہے
مجموعی طور پر ایپل کے نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صارفین اپنے فلیگ شپ فونز کی مضبوط طلب رکھتے ہیں اور یہ بات کمپنی کی پوزیشن کو مضبوط تر کر رہی ہے۔













