خواجہ آصف کے مطابق بی ایل اے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی کالعدم تنظیم ہے۔ گرفتار دہشتگردوں کے بیانات اور دستیاب انٹیلی جنس معلومات سے بھارت کے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے، جبکہ دہشتگردوں کے روابط بھارت اور افغانستان میں موجود ہینڈلرز سے بھی ملتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بلوچستان میں دہشتگردی کے 12 مختلف واقعات پیش آئے، جن میں نوشکی، دالبندین اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ 2 مقامات پر خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، پسنی میں مارے جانے والی خودکش بمبار بھی خاتون تھی، جبکہ کراچی میں ایک ناکام خودکش بمبار نے اعترافِ جرم کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 دنوں میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرسکتی ہے، تاہم ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان شہید ہوئے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملے ناکام، 2 روز میں 3 خودکش بمباروں سمیت 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید
خواجہ آصف نے دہشتگردوں کی جانب سے لاپتا افراد کے بیانیے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام صوبوں میں امن کا قیام قومی ایجنڈا ہے اور دہشتگردوں کو آنے والے دنوں میں مزید سخت جواب دیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت ماضی میں بھی فارن فنڈنگ کے ذریعے شہریوں اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بناتا رہا ہے، تاہم پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے جو بھی کرنا پڑا کیا جائے گا اور دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔














