بھارت میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
گلوبل اسنیک بائٹ ٹاسک فورس کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً 50 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً نصف ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق 2000 سے 2019 کے درمیان بھارت میں سانپ کے کاٹنے سے 12 لاکھ یعنی اوسطاً 58 ہزار اموات سالانہ تک اموات ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: پھول پر آرام کرتا سانپ، دل موہ لینے والا زہریلا منظر
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں 99 فیصد ہیلتھ کیئر ورکرز کو اینٹی وینم دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ بھارت، برازیل، انڈونیشیا اور نائجیریا میں 904 طبی ماہرین کے سروے پر مبنی ہے، جہاں ناقص انفراسٹرکچر، اینٹی وینم تک محدود رسائی اور تربیت کی کمی بڑے مسائل کے طور پر سامنے آئے۔ تقریباً نصف طبی عملے نے بتایا کہ علاج میں تاخیر کے باعث مریضوں کو سنگین پیچیدگیوں، اعضا کے کٹنے، سرجری یا مستقل معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 54 لاکھ افراد کو سانپ کاٹتے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سانپ کے کاٹنے کے واقعات زیادہ تر غریب دیہی آبادیوں میں ہوتے ہیں، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں۔
بھارت میں سانپ کے کاٹنے سے اموات زیادہ تر وسطی اور مشرقی علاقوں میں رپورٹ ہوتی ہیں، جہاں کھیتوں میں کام کرنے والے افراد اور قبائلی برادریاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ 2024 میں بھارت نے سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کو 2030 تک نصف کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان فار پریوینشن اینڈ کنٹرول آف اسنیک بائٹ اینوینومنگ متعارف کرایا، جس میں نگرانی بہتر بنانے، اینٹی وینم کی دستیابی، طبی صلاحیت میں اضافہ اور عوامی آگاہی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ریاست بہار: ایک سالہ بچے نے کوبرا کو کاٹ لیا، سانپ ہلاک، بچہ بے ہوش
تاہم رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں اسپتالوں تک رسائی میں تاخیر، ایمبولینس کی کمی، اور محدود سہولیات کے باعث بروقت علاج ممکن نہیں ہو پاتا۔ بھارت میں دستیاب اینٹی وینم صرف 4 اقسام کے سانپوں کے خلاف مؤثر ہے، جبکہ دیگر زہریلی اقسام کے لیے مخصوص اینٹی وینم کی کمی بدستور ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔














