وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پمز اسپتال ایک بہترین ادارہ ہے اور سابق وزیراعظم عمران خان نے خود خواہش ظاہر کی کہ ان کا علاج اسی اسپتال میں ہو۔
سینیٹ اجلاس کے دوران عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود کہا تھا کہ اگر امن و امان کی صورتحال کا مسئلہ ہو تو انہیں شام کے وقت پمز منتقل کیا جائے۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بھی یہ باتیں پہلے پریس کانفرنس میں بیان کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: صدر طیب اردوان کی جانب سے عمران خان کو ترکیہ آنے کی پیشکش کیے جانے کا انکشاف
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر مستقبل میں بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو سابق وزیراعظم کو وہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، اور بانی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست کے مطابق پمز سے طبی انجکشن لگوانا بھی چاہا، جیل سپرنٹنڈنٹ نے سابق وزیراعظم کی ہدایت پر پمز میں علاج کروایا، پروسیجر کامیاب رہا اور اب مزید کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو حقوق دیتا ہے اور ان کا اطلاق آئینی طریقے سے ہوتا ہے۔ سزا یافتہ قیدی کے معاملات اپیلٹ کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور اگر کسی قیدی کو سہولیات نہیں ملتی تو یہ معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پمز اسپتال سے واپسی کے بعد عمران خان کی صحت کیسی ہے؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا
اعظم نذیر تارڑ نے رانا ثنا اللہ کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ گرفتار ہوئے تو انہیں آنکھ کا فالج لاحق تھا، لیکن مجسٹریٹ کی جانب سے انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ کو سخت سردی میں زمین پر سلایا جاتا اور جیل ڈاکٹر سے ملاقات نہیں دی جاتی تھی، اور ان پر منشیات کا کیس بھی درج کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو کبھی بھی طبی سہولیات سے محروم نہیں رکھا گیا، اور سیکرٹری ہیلتھ نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے اس بات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی گئی۔














