ایک تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور ایک طالبہ کے درمیان ہونے والا مکالمہ شرکا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم
طالبہ نے صوبے کی کارکردگی سے متعلق سخت سوالات اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے دریافت کیا کہ جعلی حکومتیں ترقی کے دعوے کر رہی ہیں تو پھر خیبر پختونخوا میں جہاں گزشتہ 13 برسوں سے ایک ہی جماعت کی (اصلی) حکومت رہی صوبہ پسماندگی کا شکار کیوں ہے؟ طالبہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں مگر یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ صوبے کو عملی طور پر کیا دیا گیا۔
طالبہ نے مزید کہا کہ اب تک ہونے والی ترقی زیادہ تر منتخب نمائندوں کے گھروں تک محدود رہی جبکہ صوبے میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کی ترقی کا موازنہ دیگر صوبوں سے کیا جائے۔
طالبہ کا تعلق اے این پی سے ہوگا، سہیل آفریدی
جواب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ممکن ہے طالبہ کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی یا کسی اور سیاسی جماعت سے ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے نوجوانوں میں سوال کرنے اور احتساب کا شعور پیدا کیا ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آج ایک طالبہ ان سے سرِعام پالیسیوں پر سوال کر رہی ہے۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی نے ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا، دورہ کراچی پر ایک اور 9 مئی کی سازش کی گئی، شرجیل میمن
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اے این پی کے دور میں بم دھماکے معمول تھے اور نشتر ہال بند پڑا تھا جبکہ موجودہ دور میں نشتر ہال کو دوبارہ فعال کیا گیا۔
’جنوبی پنجاب میں اسکولوں اور سندھ میں سرکاری اسپتالوں کی حالت خراب ہے‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں تعلیمی اداروں کی صورتحال خراب ہے اور سندھ میں بعض سرکاری اسپتالوں میں اب بھی مسائل موجود ہیں جبکہ پشاور میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
ان کے مطابق صوبے میں 200 ارب روپے کی نئی ترقیاتی اسکیمیں لائی جا رہی ہیں جبکہ قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔














