بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار رہا، جہاں دورانِ کاروبار کے ایس ای 100 انڈیکس میں 488 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10 بج کر 50 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 488.49 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 187,389.23 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 2,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا تسلسل رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے اختتام پر ایک فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
دوسری جانب، بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں، جس کی وجہ امریکا اور یورپ کی اسٹاک منڈیوں میں شدید مندی تھی۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +488.49 points (+0.26%) at midday trading. Index is at 187,389.23 and volume so far is 145.21 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/eF3wgJk5a8— Investify Pakistan (@investifypk) February 4, 2026
یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت روایتی سافٹ ویئر انڈسٹری کی جگہ لے سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب امریکا نے ایک ایرانی ڈرون مار گرایا اور ایک اہم آبی گزرگاہ میں مسلح کشتیوں نے امریکی پرچم بردار جہاز کے قریب پیشقدمی کی۔

اس کے علاوہ، حالیہ گراوٹ کے بعد قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کچھ استحکام آیا۔
امریکا اور یورپ میں ڈیٹا اینالیٹکس، پیشہ ورانہ خدمات اور سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب گزشتہ جمعے کو اینتھروپک کی جانب سے اپنے ’کلاؤڈ کوورکر‘ ایجنٹ کے لیے پلگ اِنز متعارف کرائے گئے، جس سے ان صنعتوں میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
تاہم ایشیا میں فروخت کا دباؤ نسبتاً کم رہا، کیونکہ یہ خطہ تاریخی طور پر ہارڈویئر مینوفیکچرنگ میں برتری رکھتا ہے۔
ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 1.23 فیصد گر گیا۔
ادھر نیسڈیک فیوچرز میں 0.25 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے۔ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں بھی 0.07 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔














