پاکستان تحریک انصاف کافی عرصے سے اندرونی اختلافات کا شکار ہے، بعض رہنما ان اختلافات پر کھل کر بات کرتے ہیں تو بعض اسے سیاست کا حسن قرار دیتے ہیں، سینیٹر مشال یوسفزئی کے عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ساتھ اختلافات بھی بہت پرانے ہیں اور وہ ان اختلافات کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔
تاہم اب دونوں جانب سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اب ان کے مابین اختلافات کچھ بڑھ گئے ہیں اور بات اس حد تک آ گئی ہے کہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی اس معاملے پر مشال یوسفزئی کیخلاف 8 فروری کے بعد ایکشن کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان پارٹی میں انتشار کا سبب بن رہی ہیں، پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی
حال ہی میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ختم کرنے کے معاملے نے پارٹی قیادت، بانی چیئرمین عمران خان کی فیملی اور منتخب نمائندوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے، اس تنازع کا مرکزی نکتہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور پارٹی سینیٹر مشال یوسفزئی کے درمیان جاری لفظی جنگ بن چکا ہے، جو اب سوشل میڈیا، ٹی وی اسکرینز اور پارٹی پالیسی تک پھیل چکی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات پر پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ نے دھرنا دیا۔

بعد ازاں سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کی فیملی نے سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ سے رابطہ کر کے دھرنا ختم کرنے کی ہدایت دی اور پارٹی ڈسپلن کے تحت احتجاج ختم کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے ایک اور ’9 مئی‘ کی دھمکی کیوں دی؟
مشال یوسفزئی کے اس بیان کو پارٹی قیادت نے سختی سے مسترد کیا، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا ختم کرنے سے متعلق عمران خان کی بہن علیمہ خان سے منسوب باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشال یوسفزئی کا بیان لغو اور غلط ہے اور 8 فروری کے احتجاج کے بعد ان سے باقاعدہ بازپرس کی جائے گی۔
بعد ازاں علیمہ خان خود منظرِ عام پر آئیں اور اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو میں مشال یوسفزئی پر براہِ راست الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا کہ مشال یوسفزئی جن کی ہدایات پر جھوٹ بول رہی ہیں، وہ ان کی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہیں۔
علیمہ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ مشال یوسفزئی اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو باقاعدہ طور پر ٹارگٹ دیا گیا ہے، اور عمران خان نے جیل میں یہ بات کہی تھی کہ استعمال کرنے کے بعد انہیں کرش کر دیا جائے گا۔
علیمہ خان کے الزامات کے جواب میں مشال یوسفزئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی تبدیلی کی افواہیں ’مائنس عمران‘ کے خواہشمند پھیلا رہے ہیں، علیمہ خان
جس میں انہوں نے علیمہ خان سے منسوب بیانات اور ویڈیو کو ’اے آئی جنریٹڈ اور جعلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہونے کی وجہ سے ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔
ان کے مطابق عمران خان نے اپنی بہنوں کو بیانات اور میڈیا سے گفتگو کے ضمن میں سختی سے منع کر رکھا ہے، ان کے مطابق خود عمران خان نے صحافیوں کے سامنے اعلان کیا تھا کہ آئندہ صرف ان کی بہن نورین نیازی میڈیا سے بات کریں گی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی ان کی سینیٹ میں نامزدگی اور میرٹ کے حوالے سے علیمہ خان کے نام سے بیانات سامنے آئے تھے، جنہیں عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ہونے والے ٹرائل کے دوران اے آئی ویڈیوز قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد میں رکاوٹ، علیمہ خان نے سفارتی رویے پر سوال اٹھا دیے
مشال یوسفزئی نے مزید انکشاف کیا کہ 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد علیمہ خان کے نام سے منسوب کچھ فون اسکرین شاٹس بھی لیک ہوئے تھے، جن میں اڈیالہ جیل میں ان کی انٹری بند کروانے کا ذکر تھا، تاہم عمران خان کے پوچھنے پر انہیں بھی جعلی قرار دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہی واقعات کے پس منظر میں وہ حالیہ بیان کو بھی فیک یا اے آئی سے تیار کردہ سمجھتی ہیں اور اس پر تبصرہ کرنا وقت کا ضیاع ہے، انہوں نے زور دیا کہ اس تمام تنازع کے بجائے توجہ عمران خان کی صحت اور شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی ان تک رسائی پر مرکوز رہنی چاہیے۔














