وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ملاقات ضرور ہوگی تاہم ملاقات کی جگہ اور وقت کا تعین تاحال نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق اور خیبر پختونخوا میں اختلافات کیا ہیں، کیا وہ وزیراعظم اور سہیل آفریدی کی ملاقات سے ختم ہوجائیں گے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ملاقات تو ہوگی تاہم اس ملاقات کے وقت اور جگہ کے بارے میں کوئی حتمی بات تاحال نہیں ہوئی، لیکن یہ طے ہے کہ یہ ملاقات ہوگی، یہ آئینی بات بھی ہے کہ لیڈر آف دی ہاؤس لیڈر آف دی اپوزیشن سے ملاقات کرے، دوسرا یہ کہ وزیراعظم شہباز شریف کے محمود خان اچکزئی سے پچھلے 35، 30 سال سے تعلقات ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پارلیمانی جمہوری روایت میں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ لیڈر آف دی ہاؤس لیڈر آف دی اپوزیشن سے نہ ملے، یہ انہونی 2018 سے 2022 تک رہی ہے کہ لیڈر آف دی ہاؤس نے لیڈر آف دی اپوزیشن سے فون پر بھی بات نہیں کی، نہ ہاتھ ملایا نہ کبھی ملاقات کی، لیکن محمود خان اچکزئی جب بھی چاہیں وزیراعظم ملاقات کے لیے میزبانی کرنے کو بھی تیار ہیں اور پارلیمنٹ بھی جس دن وہ آئے تو دونوں کی ملاقات ضرور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت کب سے ملنے والی ہے، طارق فضل چوہدری نے بتادیا
انہوں نے کہا کہ ہم لیڈر آف دی اپوزیشن کی پوزیشن کو خراب نہیں کرنا چاہتے، وزیراعظم 8 فروری کے بعد محمود خان اچکزئی سے ملاقات کر لیں گے، کیوں کہ یہ کہا جاتا ہے کہ 8 فروری کے مومنٹم کو توڑنے کے لیے یہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں، 8 فروری کے حوالے سے حکومت نے پی ٹی آئی سے کوئی بات نہیں کی نہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے اس بارے میں بات ہوئی اور نہ ہی لیڈر آف دی اپوزیشن سے اس حوالے سے بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی پر حکومت کو اعتماد نہ بھی ہو تو بات کو آگے بڑھانے کے علاوہ اور چارہ کیا ہے، وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے، ان پر مقدمے بنائے جا رہے تھے تو وہ اس وقت بھی بیٹھنے کو تیار تھے، چارٹر آف ڈیموکریسی کو آگے بڑھانے کو تیار تھے، اسمبلی فلور پر شہباز شریف نے کہا تھا کہ بیشک ہمیں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا ہے اور آپ وزیراعظم بن گئے ہیں، اب آپ وزیراعظم بن گئے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات باہمی خواہش پر ہوئی، سیکیورٹی اور فنڈز پر مکمل اتفاق ہوا، رانا ثنا اللہ
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اب بھی وزیراعظم نے 2 بار اسمبلی فلور پر کہا ہے کہ آئیں سب مل بیٹھیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کون ہے جو پچھلے 15 سال سے بات کرنے کو تیار نہیں، کون ہے جو ملاقات پر تیار نہیں ہے، جب تک مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے تو الیکشن رولز آپ کیسے بنا لیں گے، کیا یہ پہلی بار الیکشن پر الزام ہے، ہر الیکشن میں الزام لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن رولز طے کرنے ہیں تو کیا وہ اسٹیبلشمنٹ نے کرنے ہیں، وہ تو سیاستدانوں نے کرنے ہیں، سیاستدان یہ کیسے کریں گے جب تک وہ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے، جہاں تک مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی بات ہے تو وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے اتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیا ہوگا لیکن جب بات شروع ہوگی تو اس بارے میں کوئی بات سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو 2027 میں الیکشن کی پیشکش والی بات درست نہیں، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر مستقبل کی بہتری کے لیے بات کرنا پڑتی ہے، معاملہ یہ ہے کہ 9 مئی کے بعد کس طرح اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی پرامن احتجاج کرتی ہے، یہ اعتماد اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کوئی بیٹھ کر بات نہیں کرے گا، پی ٹی آئی کریک ڈاؤن کی بات تو کرتی ہے لیکن یہ بات نہیں کی جاتی کہ اس نے بھی کچھ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ دیا ہے، ہائیکورٹ نے ہی ملاقات کے دن منگل اور جمعرات مقرر کیے ہیں، ہائیکورٹ نے ہی حکم میں کہا ہے کہ ایک دن فیملی ممبرز اور ایک دن وکلا کی ملاقات ہوگی، ہائیکورٹ نے کچھ پابندیاں لگائی ہیں کہ ملاقات کے بعد آپ کیا کریں گے، لیکن پی ٹی آئی نے ان احکامات کو خاطر میں نہیں رکھا۔














