وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات باہمی خواہش پر ہوئی، سیکیورٹی اور فنڈز پر مکمل اتفاق ہوا، رانا ثنا اللہ

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات دونوں رہنماؤں کی باہمی خواہش پر ہوئی جس میں سیکیورٹی اور مالی امور پر تفصیلی گفتگو اور مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں امن و امان اور فنڈز کے معاملات زیرِ بحث آئے۔

ان کے مطابق وزیراعظم نے اس موقعے پر کہا کہ سول لا اینڈ آرڈر اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو منظم کیا جا رہا ہے اور پولیس کی استعداد کار بھی بہتر بنائی جا رہی ہے۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کے فنڈز، تیراہ کے رہائشیوں کی نقل مکانی اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق امور بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے جنہیں وزیراعظم نے تحمل سے سنا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل محدود ہیں اور وفاق کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مطابق دہشت گرد ہمارے بہن بھائیوں کے قاتل ہیں اور ان کے لیے کسی قسم کی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وہ متعدد بار شہدا کے جنازوں میں شرکت کر چکے ہیں۔

سیاسی امور پر گفتگو کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذکورہ ملاقات میں سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

28 ویں ترمیم بجٹ سے پہلے؟

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے بجٹ سے پہلے آنے کے امکانات موجود ہیں تاہم اس کا انحصار فریقین کے درمیان اتفاق رائے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایک بڑا معاملہ ہے جس پر وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے لیے اتفاق ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق چند امور پر بھی بات چیت متوقع ہے جو وقت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی