25 سال پہلے بسنت کیسے منائی جاتی تھی، آج کیسے منائی جا رہی ہے؟

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پچھلے 25 برسوں میں بسنت کا سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ جو تہوار کبھی ایک آزاد اور بے فکر ثقافتی میلہ ہوا کرتا تھا، آج وہ سخت پابندیوں کی زد میں آ چکا ہے۔ ماضی میں بسنت کھلے دل سے منائی جاتی تھی، مگر اب حکومت کی جانب سے اسے مخصوص قوانین کے تحت محدود اجازت دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر خطرناک مانجھے پر مکمل پابندی شامل ہے۔

پرانے زمانے کی بسنت میں شرارتی اور جان لیوا خصوصاً ’چائنا مانجھا‘ عام طور پر استعمال ہوتا تھا، جس کے نتیجے میں گلے کٹنے اور دیگر افسوسناک حادثات پیش آتے تھے۔ انہی خطرات واقعات کے باعث بسنت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ تاہم اب محدود پیمانے پر جو بسنت منائی جا رہی ہے، اس میں حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود لوگ آج بھی پرانی بسنت کی رنگینی، جوش اور دھوم دھام کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔

25 سال پہلے بسنت ایک مکمل آزاد تہوار تھی، جہاں لوگ چھتوں پر جمع ہو کر بلا روک ٹوک پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے تھے، اور کسی قسم کی سرکاری پابندی موجود نہیں تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!