لاہور ہمیشہ سے تہذیب، رنگ اور روایتوں کا شہر رہا ہے۔ یہاں کے موسم بدلتے ہیں تو صرف فضا نہیں بدلتی، رویّے، میلوں ٹھیلوں اور خوشیوں کے اظہار کے انداز بھی بدل جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ روایات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں کچھ نے حسن بڑھایا اور کچھ نے سوالات کو جنم دیا۔
6 فروری کو پورے 20 برس بعد، زندہ دلانِ لاہور کے لیے بسنت کا تہوار ایک بار پھر لوٹ آیا۔ وہی پیلا رنگ، وہی چھتوں کی رونق، وہی گلیوں میں چہل پہل پورا شہر اس طرح سجا جیسے ہر سمت عید کا سماں ہو۔ حکومتی احکامات کے تحت تیاریوں نے شہر کو پھر سے زندگی بخش دی اور ایک طویل خاموشی کے بعد لاہور نے ایک بار پھر مسکرانا سیکھ لیا۔
بسنت کی مشروط بحالی کے لیے حکومتِ پنجاب نے اس بار غیر معمولی انتظامات کیے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔ شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا، ڈرون نگرانی، چیک پوسٹس اور کنٹرول رومز قائم کیے گئے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ہیلمٹ لازمی قرار دیے گئے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق ان 3 دنوں کے انتظامات، سکیورٹی، نفاذِ قانون اور شہری سہولیات پر دو سے تین ارب روپے کے قریب سرکاری وسائل خرچ کیے گئے۔
حکومت نے بسنت کو مکمل آزادی کے بجائے سخت قانونی قواعد و ضوابط کے تحت منانے کی اجازت دی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے نوٹیفکیشن اور دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت صرف رجسٹرڈ دکانداروں کو پتنگ اور ڈور کی تیاری و فروخت کی اجازت دی گئی۔
دھاتی، کیمیائی، نائیلون یا شیشے والی ڈور پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور صرف سادہ روئی کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ مذہبی، سیاسی یا اشتعال انگیز نعروں اور علامات والی پتنگیں بھی ممنوع قرار پائیں۔
یہ اجازت بھی ہر جگہ یکساں نہیں رہی۔ لاہور کی اہم شاہراہوں، حساس علاقوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارات، تاریخی مقامات، اور بعض رہائشی سوسائٹیز میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھی گئی، جبکہ شہر سے باہر اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں بسنت بدستور ممنوع رہی۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ ممنوعہ ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 5 سے 7 سال قید اور لاکھوں سے کروڑوں روپے تک جرمانہ، جبکہ استعمال کرنے پر 3 سے 5 سال قید اور بھاری جرمانہ تجویز کیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ کسی بھی غفلت یا خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
لیکن وقت کے ساتھ بدلتی روایات کا ایک تلخ پہلو بھی سامنے آیا۔ جو تہوار کبھی عام آدمی کی خوشی ہوا کرتا تھا، آج وہی غریب عوام کی پہنچ سے دور نظر آیا۔ چند سو روپے کے گڈے، تاوے اور ڈوریں ہزاروں بلکہ لاکھوں میں فروخت ہوئیں۔
3 دن کے اس تہوار نے چاندی کی قیمت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور کاروباری طبقے نے 20 سال کی کسر چند ہی دنوں میں کروڑوں روپے کما کر پوری کر لی۔
بسنت خوشی کا نام ہے، مگر اس خوشی کے دامن میں چھپے زخموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تہوار کہیں خونی کھیل میں نہ بدل جائے، یہ یاد رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان گھروں کو نہ بھولیے جنہوں نے دھاتی ڈوروں کی وجہ سے اپنے پیارے کھو دیے۔ ان ماؤں کو یاد رکھیے جنہوں نے چند روپے کے کاغذی گڈے کی خاطر اپنے معصوم بچوں کو اونچی چھتوں سے گرتے دیکھا۔
تہوار منانا جرم نہیں، مگر لاپروائی جرم ضرور بن جاتی ہے۔ خدارا، بسنت ضرور منائیں لیکن صرف تہوار کی طرح۔ قانون، احتیاط اور انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھتے ہوئے۔ یہی وہ توازن ہے جو روایت کو زندہ بھی رکھتا ہے اور انسانیت کو محفوظ بھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














