سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم ناروانے نے اپنی یادداشتوں کی کتاب (Four Stars of Destiny) میں 2020 کے لداخ اسٹیینڈ آف، اگنی پتھ اسکیم کی اچانک نفاذ اور سرحدی انتظامات میں سنگین خامیاں بے نقاب کی ہیں، لیکن بھارتی وزارت دفاع نے اسے 2024-2023 سے سیکیورٹی کلیئرنسز کی بنیاد پر جاری نہیں ہونے دیا۔
مزید پڑھیں:مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کسانوں کی محنت بیچ دی، راہول گاندھی
یادداشت کے مطابق لداخ کے دوران فوجی تیاری اور سیاسی فیصلہ سازی میں واضح تضاد تھا، جس سے ملکی قیادت میں عدم ہم آہنگی سامنے آئی۔ جنرل ناروانے نے متعدد بار وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو فون کرکے عملی احکامات طلب کیے، لیکن انہیں ہدایت ملی کہ اوپر سے اجازت کے بغیر فائر نہ کریں۔
چینی ٹینک بھارتی پوزیشنز کے قریب پہنچ گئے تو آرمی چیف نے فوری کارروائی کی اجازت طلب کی، لیکن سیاسی ہچکچاہٹ نے فوج کو میدان جنگ میں دباؤ اور بروکریٹک تعطل کے درمیان چھوڑ دیا۔ بعد میں دی گئی غیر واضح ہدایت ’جو مناسب سمجھو، وہ کرو‘ نے اسٹرٹیجک کنفیوژن اور سول ملٹری عدم ہم آہنگی کو مزید واضح کیا۔
مزید پڑھیں: بھارت مودی کی ہندوتوا پالیسی پر گامزن، جلد شیرازہ بکھر جائے گا: قائم مقام صدر آزاد کشمیر
2 فروری 2026 کو جب راہول گاندھی نے لوک سبھا میں ان حقائق کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، تو وزیر اعظم مودی کے وزرا راجناتھ سنگھ اور امیت شاہ نے ہنگامہ کرکے اجلاس معطل کروا دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت حقائق کو چھپانے اور سینیئرز فوجی حکام کو چپ کرانے میں پیش پیش ہے تاکہ مودی کی ناقابلِ خطا قوم پرستی کی تصویر قائم رہے۔














