پنجاب حکومت کی جانب سے 2006 میں بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق سرگرمیوں پر عائد کی گئی پابندی نے نہ صرف لاہور کے آسمانوں کو خاموش کیا بلکہ ایک بڑے گھریلو صنعت کے نظام کو بھی یکسر تباہ کر دیا۔
اُس وقت صرف ضلع لاہور میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار جبکہ گوجرانوالہ اور قصور میں ایک لاکھ 80 ہزار کے قریب افراد پتنگ سازی سے وابستہ تھے۔
یہ ایک بڑی گھریلو صنعت تھی جس میں کام کرنے والوں کی اکثریت گھر بیٹھے روزگار کرنے والی خواتین پر مشتمل تھی۔ ہوم نیٹ کی ایک رپورٹ ے مطابق گھریلو سطح پر کام کرنے والے مزدوروں میں سے تقریباً 18 فیصد پتنگ ساز تھے، جن میں 90 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔
اچانک اور بغیر کسی متبادل انتظام کے لگائی گئی پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعۂ آمدن ختم کر دیا۔ نتیجتاً خواتین کم آمدن والے کاموں جیسے دیہاڑی مزدوری، گھریلو ملازمت یا ریڑھی لگانے پر مجبور ہو گئیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، خوراک میں کمی آئی اور کئی خاندانوں کو بچوں کو مشقت پر بھیجنا پڑا۔
خواتین کو بے روزگار کرنے کے ساتھ ساتھ اس پابندی نے دیگر شعبوں جیسے بانس، دھاگا، گلو، کاغذ کی صنعتوں کو بھی متاثر کیا۔
المیہ یہ ہے کہ اصل خطرہ پتنگ نہیں، بلکہ شیشے سے لیپے ہوئے ڈور (ڈور) سے تھا، جسے ریگولیٹ کرنے کے بجائے پوری دستکاری کو جرم بنا دیا گیا۔ اس ناقص قانون سازی اور اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے نے آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت روزگار کے حق کی بھی خلاف ورزی کی اور ایک فن، ایک ہنر اور ہزاروں گھروں کے چولہے بجھا دیے۔

اس سال بسنت کی مشروط اجازت نے ان خواتین کے لئے روزگار کی نئی امید کی کرن جگا دی ہے۔
لاہور کے اندرون شہر سے تعلق رکھنے والی سابق پتنگ ساز شبنم بی بی کہتی ہیں کہ بسنت پر پابندی سے پہلے وہ گھر بیٹھے روزانہ 200 سے 300 پتنگیں تیار کر لیا کرتی تھیں، جس سے بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچ بآسانی چل جاتا تھا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ ہم نے کبھی شیشے والی ڈور نہیں بنائی، ہمارا کام صرف کاغذ اور بانس کا ہوتا تھا۔
پابندی کے بعد ہمارا ہنر ایک دم بے قیمت ہو گیا۔ اب بسنت کی مشروط اجازت کی خبر نے برسوں بعد دل میں یہ امید جگائی ہے کہ شاید دوبارہ باعزت روزگار مل سکے، مگر ہمیں خوف ہے کہ کہیں یہ صرف چند دن کی بات نہ ہو۔
قصور کی رہائشی اور طویل عرصے تک پتنگ سازی سے وابستہ رہنے والی رخسانہ پروین کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد انہیں گھریلو ملازمت پر جانا پڑا، جہاں محنت زیادہ اور آمدن کم تھی۔ انکا مزید کہنا ہے کہ پتنگ سازی ہمارے لیے صرف روزگار نہیں تھی بلکہ ایک ہنر اور پہچان تھی۔
پابندی کے بعد ہم جیسی ہزاروں عورتیں نظر انداز ہو گئیں۔ اگر حکومت واقعی بسنت کو بحال کرنا چاہتی ہے تو ہمیں رجسٹر کر کے محفوظ پتنگ اور سادہ ڈور بنانے کی اجازت دے، تاکہ ہم عزت کے ساتھ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔
حمیرہ اسلم، نیشنل کوآرڈینیٹر پنجاب، ہوم نیٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت اب تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کے احیاء کی بات کر رہی ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ 2 دہائیاں قبل بسنت اور پتنگ سازی پر عائد پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اچانک چھین لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہوم نیٹ پاکستان نے اس مسئلے پر طویل عرصے تک کام کیا اور اپریل 2013 میں ایک تفصیلی سچویشن اینالیسز شائع کی، جس میں خاص طور پر خواتین پتنگ سازوں کی حالت زار کو دستاویزی شکل دی گئی۔

اس تحقیق کے مطابق پتنگ سازی سے وابستہ خواتین کی عمریں عموماً 18 سے 45 برس کے درمیان تھیں، جو اچانک پابندی کے بعد شدید بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔
حمیرہ اسلم کے مطابق پاکستان میں ہوم بیسڈ ورکرز کی بڑی تعداد پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ایسے میں بغیر کسی متبادل منصوبہ بندی کے پابندی نے ان خواتین کو سنگین معاشی اور سماجی مسائل میں دھکیل دیا۔
کئی خاندانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ رہا، جبکہ بعض علاقوں میں یہ بھی سامنے آیا کہ شدید غربت کے باعث کچھ خواتین خطرناک اور غیر محفوظ راستوں پر جانے پر مجبور ہوئیں، جو نہایت دل خراش حقیقت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت بسنت یا اس جیسے تہواروں کو منانے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان افراد، خصوصاً خواتین پتنگ سازوں کے لیے متبادل روزگار، اسکلز ٹریننگ، فنی تربیت اور مالی شمولیت کے منصوبے ناگزیر ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری منصوبوں کے تحت خواتین کو سلائی، ہنر مندی اور مائیکرو فنانس سے جوڑ کر بہتر نتائج حاصل کیے گئے، اسی طرز پر قابلِ عمل اسکیمیں متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ خواتین باعزت روزگار کے ذریعے اپنے بچوں اور خاندان کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔
پتنگ سازی سے متعلقہ خواتین کے مطابق بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی واپسی نہیں بلکہ ان ہزاروں گھریلو خواتین کے لیے معاشی بحالی کا موقع ہو سکتی ہے، جو برسوں سے اپنے ہنر کے زندہ ہونے کی منتظر ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














