روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی حکام نے مرحوم جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے عالمی سطح کے بچوں کی اسمگلنگ نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کیا، جبکہ سامنے آنے والی تفصیلات انسانیت کے لیے ’خالص جہنم‘ کے مترادف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
ماریا زاخارووا کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایپسٹین کیس سے متعلق فائلز کی آخری کھیپ جاری کی گئی، جس میں 3 ہزار کے قریب ای میلز، آڈیوز، تصاویر اور ایپسٹین کی جائیداد سے ضبط شدہ دستاویزات شامل ہیں۔ ان میں ایک کم عمر متاثرہ لڑکی کی ڈائری بھی شامل ہے، جس میں اس نے الزام لگایا کہ ایپسٹین نے اسے اپنے بچے کی پیدائش کے لیے استعمال کیا۔
Hoy se publico todos Los archivos
Jeffrey Epstein
Descargarlos aqui,⤵️https://t.co/MXTtXz5Vt1
♈🤟♈https://t.co/MXTtXz5Vt1 pic.twitter.com/Hj9g7v1Nqr— Bijo Sam (@bijosam) February 6, 2026
ڈائری کے مطابق لڑکی نے 2002 کے آس پاس، 16 یا 17 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، جس کی نگرانی ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل نے کی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد نوزائیدہ بچے کو کہیں منتقل کر دیا گیا اور پھر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔
دیگر دستاویزات سے عندیہ ملتا ہے کہ ایپسٹین نے اپنی متعدد متاثرہ لڑکیوں سے بچوں کی پیدائش کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کی مزید کھیپ جاری: یہ کونسی معلومات ہیں، اہم شخصیات کے اوسان کیوں خطا ہیں؟
زاخارووا نے سوال اٹھایا کہ گھسلین میکسویل کو صرف 20 سال قید کی سزا کیوں دی گئی اور بچوں کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے باوجود عالمی سطح پر تحقیقات کیوں شروع نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ابتدا ہی سے انٹرپول اور یوروپول کو اس کیس میں شامل کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ایپسٹین کے مبینہ بااثر گاہکوں کے خلاف اب تک کوئی فوجداری کارروائی کیوں نہیں ہوئی، جن میں سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو سمیت کئی معروف شخصیات کے نام سامنے آ چکے ہیں۔
Don't stop talking about the Epstein files. If this man were Muslim, the whole world would be condemning Islam right now.
Because he's Jewish, everyone is silent.#EpsteinFiles pic.twitter.com/GSdrjRWha7
— S (@Shirink_13) February 2, 2026
ماریا زاخارووا کے مطابق اس پورے معاملے سے مغربی عدالتی نظام کی دوہری سوچ بے نقاب ہوتی ہے، جو طاقتور اشرافیہ کو جوابدہی سے بچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب معاملات عالمی اشرافیہ تک پہنچتے ہیں تو مغرب میں سچائی کی مکمل تحقیقات کبھی نہیں ہوتیں، چاہے ثبوت تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں ہی کیوں نہ موجود ہوں۔














