روسی حکام کے مطابق روسی فوجی انٹیلیجنس ادارے جی آر یو کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو ماسکو میں ان کی رہائش گاہ کے اپارٹمنٹ میں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کا قیام اصولی معاملہ ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ ان حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے جن کا الزام روس یوکرین پر عائد کرتا رہا ہے۔
تحقیقات سے وابستہ حکام کے مطابق ایک نامعلوم حملہ آور نے لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیگزئیف پر اس وقت کئی فائر کیے جب وہ اپنے اپارٹمنٹ سے دفتر جانے کے لیے نکل رہے تھے جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گیا۔
الیگزئیف روسی فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ ہیں اور یوکرین جنگ کی نگرانی میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔
64 سالہ ولادیمیر الیگزئیف کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں ہیرو آف رشیا کا اعزاز دیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق انہیں بازو، ٹانگ اور سینے میں گولیاں لگیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: جوہری معاہدہ ختم، روس کی امریکا سے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی
الیگزئیف کی پیدائش یوکرین میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ سوویت یونین کا حصہ تھا۔ انہیں سنہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی سائبر مداخلت کے باعث امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا تھا جبکہ یورپی یونین نے سنہ 2018 میں برطانیہ کے شہر سالسبری میں سابق روسی ایجنٹ سرگئی اسکریپل اور ان کی بیٹی کو زہر دیے جانے کے واقعے پر ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فائرنگ کے اس واقعے کا الزام یوکرین پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کریملن کے مطابق صدر پوٹن کو واقعے پر بریفنگ دی جا چکی ہے اور روسی انٹیلی جنس ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ جنگ کے دوران اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور ماہرین کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔
روسی میڈیا کے مطابق حملہ آور نے اپارٹمنٹ کے داخلی راستے پر الیگزئیف کا انتظار کیا تھا۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ حملہ آور نے فوڈ ڈیلیوری ورکر کا بھیس اختیار کیا تاہم ایک پڑوسن کے مطابق عمارت کے سی سی ٹی وی کیمرے درست حالت میں کام کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد روس میں سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سرکاری میڈیا پر عوامی تبصروں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اتنے اہم فوجی عہدیداروں کو مناسب سیکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔
واضح رہے کہ دسمبر 2024 کے بعد ماسکو اور اس کے مضافات میں اسی رینک کے 3 دیگر روسی عہدیدار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 22 دسمبر کو روسی جنرل اسٹاف کے تربیتی شعبے کے سربراہ کو ان کی گاڑی میں نصب بم کے ذریعے قتل کر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: روس کا یوکرین کے توانائی کے نظام پر بڑا حملہ، شدید سردی میں لاکھوں صارفین بجلی سے محروم
ولادیمیر الیگزئیف ویگنر کرائے کے فوجی گروپ کے ساتھ روسی وزارت دفاع کے رابطوں کے بھی ذمہ دار رہے ہیں۔ ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن نے جون 2023 میں بغاوت کی کوشش کی تھی جس کے دوران الیگزئیف ان حکام میں شامل تھے جنہیں اس سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا تھا۔ بغاوت ناکام ہوئی اور پریگوزن 2 ماہ بعد طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔














