آن لائن پلیٹ فارمز نے مصنوعی ذہانت کے کم معیار مواد کو فلٹر کرنے کی سہولت دیدی

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آن لائن دنیا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار شدہ کم معیار مواد، جسے ’کم معیار تخلیق‘ کہا جاتا ہے، کی بڑھتی ہوئی بھرمار کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے صارفین کے لیے فلٹرنگ کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے مرہون منت مواد کو میٹا کمپنی کیسے ممتاز رکھے گی؟

گوگل کے ویو اور اوپن اے آئی کے سورا جیسے جنریٹیو ٹولز کے ذریعے چند الفاظ میں حقیقت پسندانہ تصاویر اور ویڈیوز بنانا آسان ہوگیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلیوں کو پینٹنگ کرتے، مشہور شخصیات کو غیر مناسب حالات میں دکھاتے یا کارٹون کرداروں کو مصنوعات کی تشہیر کرتے دکھانے والی تصاویر سوشل نیٹ ورکس اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

یوٹیوب کے چیف ایگزیکٹو نیل موہن کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کم معیار کے مواد کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ یہ مواد سستا ہے، جس کے باعث بڑی مقدار میں تیار کیا جارہا ہے۔

کچھ برانڈز، جیسے ایکوئینوکس جمز اور البمڈ بریز بادام دودھ نے حالیہ اشتہاری مہموں میں کم معیار تخلیقات کے تاثر کو استعمال کرتے ہوئے خود کو حقیقی اور اصلی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیارکردہ مواد کو منفرد رکھنے کا فیصلہ

دریں اثنا، مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیا نڈیلا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محض کم معیار کا کہنا درست نہیں، بلکہ اسے تخلیقی صلاحیت اور پیداواری قابلیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چھوٹی اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے صارفین کو مصنوعی تخلیقات سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

پِنٹرسٹ نے گزشتہ سال صارفین کی درخواست پر مصنوعی تصاویر فلٹر کرنے کی سہولت متعارف کرائی۔ ٹک ٹاک نے بھی اسی طرح کا فلٹر متعارف کرایا، جبکہ یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین کو مصنوعی تصاویر کم دیکھنے کی سہولت دیتے ہیں، لیکن واضح فلٹر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیارکردہ مواد کو منفرد رکھنے کا فیصلہ

کچھ پلیٹ فارمز، جیسے کوڈا میوزک، نے صارفین کو مصنوعی تخلیقات رپورٹ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تصدیق کے بعد متعلقہ اکاؤنٹس کو مصنوعی فنکار کے طور پر لیبل کیا جاتا ہے تاکہ صارفین کو معلوم ہو کہ وہ کیا حاصل کررہے ہیں۔

کیرا جیسے سوشل نیٹ ورک میں ایک ملین سے زیادہ صارفین ہیں اور یہ مصنوعی مواد کو الگ کرنے کے لیے الگورتھم اور انسانی نگرانی دونوں کا استعمال کرتا ہے۔

اس کے بانی جِنگنا ژانگ کے مطابق، لوگ انسانی تخلیق سے جڑنا چاہتے ہیں اور کسی بچے کی ڈرائنگ کے حسن کو مشین کے بے ارادے مواد سے زیادہ سراہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم