سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعے کے روز سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں سلووینیا کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ و یورپی امور تانیا فایون سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات غزہ کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام پر مرکوز عرب وزرائے خارجہ کے توسیعی اجلاس کے موقعے پر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے سلووینیا کی وزیر خارجہ سے علیحدہ ملاقات میں سعودی عرب اور سلووینیا کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان عمومی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد سعودی عرب اور سلووینیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
عرب وزرائے خارجہ کا توسیعی اجلاس
توسیعی وزارتی اجلاس میں اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور سلطان المریخی نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیے: ترکیہ اور سعودی عرب تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر متفق، علاقائی استحکام پر مشترکہ مؤقف
اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو مستحکم بنانے کے طریقوں پر غور کیا جس میں غزہ کی صورتحال خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔
جنگ بندی اور انسانی امداد پر زور
وزرا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک واضح سیاسی لائحہ عمل ناگزیر ہے جو سنہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی اور اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ یروشلم میں اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرا نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 2025 پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے تاریخی سال ثابت ہوا: پاکستانی سفیر احمد فاروق
وزرائے خارجہ نے فلسطینی حقوق کے لیے سلووینیا کی حمایت اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کو سراہا۔ اس کے علاوہ خطے کی مجموعی صورتحال، مکالمے کے ذریعے کشیدگی میں کمی، اور روس یوکرین بحران کے حل سے متعلق کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔














