حالیہ تحقیق کے مطابق ڈارک میٹر کائنات کا سب سے پہیلی نما مادہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ فزکس دانوں کے لیے ایک مسئلہ رہا ہے، حالانکہ یہ عام مادے کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ موجود ہے، یہ اب تک نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: العُلا کے مزید قدرتی ذخائر کو ڈارک اسکائی کا عالمی اعزاز حاصل
سائنسدان ڈارک میٹر بنانے والے ذرات کی تلاش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے کمار نے Phys.org کے لیے لکھا: ’ڈارک میٹر کا راز۔ غیر مرئی، ہر جگہ موجود اور معیاری کائناتیات میں ضروری فزکس پر دہائیوں سے ایک چھایا ہوا مسئلہ رہا ہے۔‘
Unmasking the galaxy’s hidden engine: dark matter’s grip on the Milky Way explained
Compact dark matter could mimic the gravitational pull of a black hole. Scientists have mapped the hidden structure that holds galaxies together@eriknjoka gets you this report pic.twitter.com/pViR6ShPPw
— WION (@WIONews) February 7, 2026
سائنسدانوں نے ڈارک میٹر کی موجودگی اس لیے ظاہر کی کیونکہ یہ روشنی کے ساتھ براہ راست تعامل نہیں کرتا بلکہ اس کے کششی اثرات کے ذریعے محسوس ہوتا ہے۔
دراصل ڈارک میٹر کا پہلا اشارہ اس مشاہدے سے ملا کہ کہکشائیں متوقع سے کہیں زیادہ تیزی سے گھوم رہی تھیں، اتنی تیزی سے کہ صرف ان کے مرئی مادے کی کشش ثقل انہیں اکٹھا رکھنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
اگرچہ ڈارک میٹر کائنات میں موجود مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے ہمارے کائناتی ماڈلز سے ہٹانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہر سیکنڈ میں ایک اسمارٹ فون تیار کرنے والی’ڈارک فیکٹری‘ کی اہم بات کیا ہے؟
نئی تحقیق کا مقصد ڈارک میٹر کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ کشش ثقل کی پوشیدہ پیچیدگی کو اجاگر کرتی ہے اور یہ تجویز دیتی ہے کہ جو کچھ ہم ڈارک میٹر کے طور پر سمجھتے ہیں، وہ اصل میں کشش ثقل کی غیر معمولی حرکت سے پیدا ہو رہا ہے یا ہو سکتا ہے۔













