سعودی عرب اور شام کے درمیان 45 ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینا اور شام کی معیشت کی بحالی کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
یہ معاہدے دمشق میں شامی ڈویلپمنٹ فنڈ اور سعودی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے درمیان طے پائے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا شام حکومت کو ساڑھے 16 لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ منصوبے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں اور ان کا مقصد معاشی سرگرمیوں کی بحالی، علاقائی روابط کو بہتر بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
یہ معاہدے سعودی سرمایہ کاری کے وفد کے دورۂ شام کے دوران طے پائے، جس کی قیادت سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح کر رہے تھے۔
Saudi Arabia Invests $40B in Syria With 80 Major Aviation and Telecom Agreements…#Syria #SaudiArabiahttps://t.co/2i8iiX0XQg
— Saudi Expatriates (@saudiexpat) February 8, 2026
انہوں نے بتایا کہ سعودی-شامی بزنس کونسل کے تحت ایک علیحدہ رئیل اسٹیٹ منصوبے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور شام کے درمیان معاشی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، جن میں ہوابازی، ٹیلی کمیونی کیشن، انفراسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
دورے کے دوران سعودی عرب نے شام کے ٹیلی کمیونی کیشن شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا، جس میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے }سلک لنک‘ منصوبہ شامل ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور شام کے درمیان 24 ارب ریال کے سرمایہ کاری معاہدے، اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز
خالد الفالح کے مطابق اس منصوبے کی قیادت سعودی عرب کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ایس ٹی سی کرے گی۔
اسی دوران سعودی فضائی کمپنی فلائی ناس نے شامی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ’فلائی ناس شام‘ کے نام سے ایک نئی کمرشل ایئرلائن قائم کی جائے گی۔
یہ ایئرلائن ایک مشترکہ منصوبہ ہوگی، جس میں شامی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اینڈ ایئر ٹرانسپورٹ کے پاس 51 فیصد جبکہ فلائی ناس کے پاس 49 فیصد حصص ہوں گے۔

توقع ہے کہ اس ایئرلائن کی پروازیں رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں شروع ہو جائیں گی۔
نئی ایئرلائن مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلائے گی، جس کا مقصد شام کے لیے اور شام سے فضائی آمدورفت کو بڑھانا، علاقائی و عالمی رابطوں کو مضبوط بنانا اور فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے۔
خالد الفالح نے کہا کہ یہ شراکت داری معاشی انضمام اور مارکیٹ روابط کو فروغ دیتی ہے، فضائی نقل و حمل کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنا کر ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور قطر نے شام کے ذمہ قرض ورلڈ بینک کو ادا کردیا
’اس شراکت داری سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ علاقائی معاشی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔‘
انہوں نے 0اعلان کیا کہ سعودی عرب حلب میں دو ہوائی اڈوں کی ترقی کے لیے مختلف مراحل میں 7.5 ارب سعودی ریال (تقریباً 2 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کرے گا۔
وزیرِ سرمایہ کاری نے یہ بھی بتایا کہ شام میں بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے ’ایلاف انویسٹمنٹ فنڈ‘ کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ ٹرانسفر کے چینلز دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔












