یورپی یونین نے میٹا کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واٹس ایپ پر مصنوعی ذہانت کے حریفوں کو رسائی دینے سے روکا گیا تو ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف سخت عبوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری
یورپی ریگولیٹرز نے میٹا پر عدم مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی غالب پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے میٹا کو بھیجے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر واٹس ایپ کی مالک کمپنی نے یورپی قوانین کی خلاف ورزی بند نہ کی تو حریف کمپنیوں کو پہنچنے والے ممکنہ سنگین نقصان کو روکنے کے لیے عبوری اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
یورپی یونین کی اینٹی ٹرسٹ چیف ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تفتیش کے دوران واٹس ایپ تک حریفوں کی رسائی برقرار رکھنے کے لیے میٹا کے خلاف فوری عبوری اقدامات نافذ کیے جائیں تاکہ میٹا کی نئی پالیسی یورپ میں مسابقت کو ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں صحت مند اور متحرک مسابقت کا تحفظ نہایت اہم ہے۔
مزید پڑھیے: میٹا کی نئی حکمتِ عملی: سوشل میڈیا پر اے آئی فیچرز کے لیے ماہانہ سبسکرپشن پر غور
یورپی کمیشن کے اس اقدام پر میٹا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ میٹا کے ترجمان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین کے لیے واٹس ایپ بزنس اے پی آئی میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں۔
صارفین کے پاس اے آئی کے کئی متبادل موجود ہیں جن تک وہ ایپس، آپریٹنگ سسٹمز، ڈیوائسز، ویب سائٹس اور صنعتی شراکت داریوں کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
میٹا کے ترجمان نے مزید کہا کہ کمیشن کا یہ مؤقف غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ واٹس ایپ بزنس اے پی آئی چیٹ بوٹس کی تقسیم کا بنیادی ذریعہ ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے عبوری اقدامات کی دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب میٹا نے 15 جنوری کو اپنی نئی پالیسی نافذ کی جس کے تحت واٹس ایپ پر صرف میٹا اے آئی اسسٹنٹ کو اجازت دی گئی جبکہ دیگر چیٹ بوٹس کو میسجنگ سروسز سے باہر رکھا گیا۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین ہیکرز کے شدید خطرے میں، فوری بچاؤ کیسے کریں؟
یورپی نگران ادارے کے مطابق عبوری اقدامات کے نفاذ کا انحصار میٹا کے جواب اور اس کے دفاع کے حق پر ہوگا۔













