سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے انہیں عدالتی نمائندہ مقرر کر دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالتِ زار اور انہیں دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی تحریری رپورٹ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے، وکیل سلمان صفدر
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ملاقات میں سلمان صفدر کو کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آنی چاہیے۔ انہوں نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کا مسئلہ ہو تو وہ براہِ راست عدالت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل سلمان صفدر ملاقات کے بعد رپورٹ پیش کریں، ہم رپورٹ دیکھ کر پرسوں سماعت کریں گے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ یہ رپورٹ اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے۔
اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جا رہی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکم جاری کر چکی ہے اور سلمان صفدر آج ہی ملاقات کے لیے جائیں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ سماعت پر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔














