سعودی کابینہ نے اردن اور ترکی کے ساتھ پرامن جوہری اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات اور مسودہ معاہدوں پر دستخط کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا دورہ، فٹبالرز اور گیمرز سے ملاقات
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے حوالے سے وزیرِ توانائی کو باقاعدہ اختیار دے دیا گیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں قطر کے ساتھ تیز رفتار الیکٹرک ریل منصوبے کے معاہدے، بوسنیا و ہرزیگووینا اور منگولیا کے ساتھ ویزا استثنیٰ کے معاہدوں، ازبکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت اور شام کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کی بھی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
یہ اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو، ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ روابط کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ان روابط کو دوطرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر قرار دیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں علاقائی سلامتی اور استحکام کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: حج کے لیے ویزوں کا اجرا کب شروع ہوگا؟ سعودی عرب نے اعلان کردیا
علاوہ ازیں غزہ میں جنگ بندی اور داعش کے خاتمے کے لیے قائم عالمی اتحاد کے لیے سعودی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔













