فیفا نے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاؤسٹ) کو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں اپنا پہلا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نامزد کر دیا ہے جو فٹبال میں جدید اور اختراعی تحقیق کے فروغ میں معاونت کرے گا۔
یہ اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ کاؤسٹ کھیل، تعلیمی تحقیق اور صنعت کو جدید اور اعلیٰ سطحی سائنسی طریقۂ کار کے ذریعے یکجا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، جس سے فٹبال اسٹڈیز کے میدان میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا جلد پاکستان کے دورے کا اعلان
کاؤسٹ کے صدر پروفیسر سر ایڈورڈ برن نے کہا کہ دنیا میں فیفا کے پانچویں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور خطے کے پہلے ادارے کے طور پر انتخاب ایک بڑی کامیابی ہے، جو عالمی فٹبال میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منظوری سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت تحقیق و ترقی اور علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ جدید اور پائیدار اسپورٹس سسٹم کی تشکیل بھی ترجیح ہے۔
تعاون کے تحت پہلا منصوبہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید الگورتھمز کی تیاری ہے جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخی نشریاتی ویڈیوز کا تجزیہ کر کے کئی دہائیوں پر مشتمل میچز کو منظم اور قابلِ تلاش ڈیٹا میں تبدیل کرے گا۔ اس اقدام سے کمپیوٹر وژن کی جدید تکنیکوں کے استعمال اور فٹبال کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا دورہ، فٹبالرز اور گیمرز سے ملاقات
دوسرا منصوبہ قطر میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ 2022 اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں ہونے والے فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2023 کے دوران کھلاڑیوں اور گیند کی ٹریکنگ سے حاصل کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے، جس کے ذریعے کھیل کے دوران حرکات و سکنات، تکنیک اور کارکردگی کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے جامع تجزیہ کیا جائے گا۔














