اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی قیادت میں ہونے والے ایک تازہ تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا غذائی نظام کیلوریز تو وافر مقدار میں پیدا کر رہا ہے، تاہم صحت بخش، متوازن اور متنوع خوراک کی فراہمی میں شدید کمی پائی جاتی ہے۔
یہ نتائج اسلام آباد میں منعقدہ ’پائیدار غذائی نظام کی تبدیلی کے لیے مربوط روڈ میپ‘ سے متعلق قومی ورکشاپ میں پیش کیے گئے۔ یہ تجزیہ ایف اے او نے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسیف، آئی ایف اے ڈی اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے مکمل کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر خوراک کی توانائی دستیاب ہے، مگر 2018 کی قومی غذائی رہنما ہدایات کے مطابق صحت مند غذا کے لیے درکار اجزا میسر نہیں۔
پھلوں، سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کی دستیابی میں نمایاں کمی ہے، جب کہ اناج، چینی اور خوردنی تیل کی ضرورت سے زائد فراہمی متوازن غذا کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں اناج کا استعمال غالب ہے، جبکہ دودھ اور دودھ سے بنی اشیا دوسرے نمبر پر ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال خاص طور پر دیہی علاقوں میں کم ہے، جس سے غذائی اجزا کی کمی بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں غذائی قلت کی صورتحال ابتر، عالمی ادارہ خوراک نے انتباہ جاری کر دیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور غیر متعدی امراض مجموعی اموات کے 58 فیصد کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو صحت اور معیشت دونوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
تجزیے میں حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ سبسڈیز کا رخ غذائیت سے بھرپور خوراک کی پیداوار اور دستیابی کی جانب موڑا جائے، جبکہ چینی اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھا کر حاصل آمدن کو صحت مند خوراک کے پروگراموں پر خرچ کیا جائے۔














