افغانستان میں غذائی قلت کی صورتحال ابتر، عالمی ادارہ خوراک نے انتباہ جاری کر دیا

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے اتوار کے روز افغانستان میں بھوک اور غذائی قلت کی سنگین صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں خوراک کی کمی اور بچوں میں غذائی کمی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے افغانستان کے کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیئف نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2025 میں بچوں میں غذائی کمی کی شرح اب تک کے ریکارڈ شدہ اعداد و شمار میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ ایلیئف نے خبردار کیا کہ اس سال 4 ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں اور اگر ان کا علاج نہ کیا گیا تو یہ بچے موت کے خطرے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سرحدی کشیدگی کے باعث پاک افغان بارڈر کی بندش سے افغانستان میں غذائی قلت

ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ چھ ملین افغانوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے آنے والے چھ ماہ میں تقریباً 390 ملین ڈالر کی ضرورت ہے، تاہم ایلیئف نے خدشہ ظاہر کیا کہ بین الاقوامی امداد میں کمی کی وجہ سے اس فنڈنگ کے حصول کے امکانات ‘بہت کم’ ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں تقریباً 5 ملین مائیں اور بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ملک دنیا میں بچوں میں شدید غذائی کمی کی چوتھی پوزیشن پر ہے۔

ادارے نے مزید کہا کہ ملک میں 17 ملین سے زیادہ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں، اور صورتحال میں اضافہ بچوں میں شدید غذائی کمی کی وجہ سے مزید پیچیدگی پیدا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: یمن: ہر دوسرا بچہ جان لیوا غذائی قلت کا شکار

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں بھوک میں اضافہ ہوا ہے، اور 2026 میں مزید تین ملین افغان شدید بھوک کے خطرے میں ہیں، جس سے یہ عالمی سطح پر سب سے شدید انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان تک کوئی امریکی فنڈ نہیں پہنچنا چاہیے، امریکی سینیٹر

واشنگٹن: امریکی سینیٹر جم رِش نے کہا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا ایک پیسہ بھی طالبان یا کسی دہشت گرد گروپ تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ سینیٹر رِش نے کہا کہ سینیٹ کے خارجہ تعلقات کمیٹی میں اس معاملے پر اس ماہ کے آخر میں قانون سازی پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ امریکی فنڈ طالبان تک نہ پہنچیں۔ سابقہ برسوں میں بھی امریکی قانون سازوں نے بارہا اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں امداد کے دوران فنڈنگ طالبان تک پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟