دنیا کے مختلف ممالک میں تدریسی فرائض انجام دینے والے ایک استاد پر الزام ہے کہ اس نے 3 براعظموں میں 55 سال سے زیادہ عرصے تک کم عمر بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا اور تفصیلات یو ایس بی ڈرائیو میں محفوظ رکھیں۔
فرانسیسی استغاثہ کے مطابق 79 سالہ شخص پر 1967 سے 2022 کے درمیان 89 کم سن افراد کے ساتھ زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بچے میری ریڈلائن، جنسی استحصال اور تشدد قبول نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملزم ایک فری لانس ٹیوٹر تھا جو جرمنی، سوئٹزرلینڈ، مراکش، نائجر، الجزائر، فلپائن، بھارت، کولمبیا اور نیو کیلیڈونیا سمیت مختلف ممالک میں منتقل ہوتا رہا اور تدریسی ملازمتوں کے ذریعے نوعمر بچوں کے قریب رسائی حاصل کرتا تھا۔
پراسیکیوٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ جہاں بھی وہ تدریس کے لیے مقیم ہوا، وہاں نوجوانوں سے تعلقات قائم کیے۔ مبینہ متاثرین کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ملزم کے بھتیجے کو ایک یو ایس بی ڈرائیو ملی جس میں درجنوں ایسے جنسی حملوں کی تفصیلات درج تھیں۔
استغاثہ کے مطابق فائلیں کئی دہائیوں پر محیط مبینہ جرائم کا ذاتی ریکارڈ معلوم ہوتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈرائیو میں تحریری اعترافات بھی موجود تھے جن میں دو قریبی رشتہ داروں کے قتل کا ذکر کیا گیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق ملزم نے بعد ازاں اعتراف کیاکہ اس نے 1970 کی دہائی میں اپنی لاعلاج بیمار والدہ کو تکیے سے دم گھونٹ کر ہلاک کیا اور 1990 کی دہائی میں 92 سالہ پھوپھی کو نیند میں مار ڈالا۔
پولیس کو مبینہ طور پر اس نے بتایا کہ وہ ان اموات کو رحم کا عمل سمجھتا تھا۔
مزید پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کا کاروبار، ’ایکس‘ کیسے استعمال ہو رہا ہے؟
اب تک 89 میں سے صرف 40 مبینہ متاثرین کی شناخت ہو سکی ہے۔ استغاثہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متاثرین کی تعداد مزید ہو سکتی ہے اور دیگر افراد سے سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔
فرانسیسی قانون کے تحت 1993 سے قبل ہونے والے جرائم پر مدتِ معیاد کے باعث مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ جرائم کے مکمل دائرہ کار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم تاحال حراست میں ہے اور تفتیش جاری ہے۔














