دنیا میں بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کی تشہیر ’ایکس‘ پر دھڑلے سے کی جا رہی ہے اور اس گھناؤنے کاروبار کرنے والوں نے اس پلیٹ کو اپنے ’بزنس‘ کا ایک محفوظ ذریعہ بنا لیا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے ایک شاندار انویسٹیگیشن کی ہے جس سے ایسے افراد کا کچا چٹھا بھی کھلا ہے اور اس مقصد کے لیے سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انتہائی کم عمری میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والی ایک خاتون نے ایلون مسک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تصاویر پیش کرنے والے لنکس کو روکیں۔
تقریباً 20 سال قبل زیادتی کا نشانہ بننے والی امریکا کی رہائشی ’زورا‘ (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ میرے اور دیگر لوگوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اب بھی یہاں زیر گردش ہے اور ایک بکاؤ مال بنادی گئی ہے۔
امریکی خاتون جنہیں بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا آج بھی اپنی پرانی تصاویر کو انٹرنیٹ پر گردش کرتا دیکھ کر اذیت میں ہیں۔ ان کی اپیل ایلون مسک سے ہے کہ وہ ایکس پر سے ان لنکس کو فوری طور پر ہٹوائیں جن کے ذریعے ان کے استحصال کی تصاویر فروخت ہو رہی ہیں۔
متاثرہ خاتون نے بتایا ہے کہ ان کے بچپن کی جنسی زیادتی کی تصاویر اور ویڈیوز نہ صرف انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں بلکہ کچھ افراد ان قیمتی مواد کو بطور’وی آئی پی پیکجز‘ فروخت بھی کر رہے ہیں۔ یہ مواد اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر براہ راست موجود نہیں ہوتا بلکہ وہاں ایسے لنکس اور پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں جو خریداروں کو ان مواد تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں۔
بی بی سی کی تحقیق میں ایک ٹریڈر تک رسائی حاصل کی گئی جس نے خود اپنے پاس ہزاروں بچوں کی جنسی زیادتی کی تصاویر اور ویڈیوز رکھنے کا دعویٰ کیا جن میں زورا کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ اس نے آن لائن ادائیگی کے ذریعے ان فائلز کی فروخت کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔ اس بات کی تصدیق کے لیے بی بی سی نے متعلقہ ماہرین سے رابطہ کیا جو اس مواد کو دیکھنے اور اس کی نوعیت کی تصدیق کرنے کے اہل ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار
یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ افراد کے لیے شدید تکلیف دہ ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر بچوں کے استحصال کے مواد کی خرید و فروخت اور شیئرنگ کس حد تک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ متاثرہ افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سلسلے میں سخت کارروائی اور مضبوط قوانین کے نفاذ کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔
بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق ایکس پر ایسے اکاؤنٹس موجود ہیں جو بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر فروخت کر رہے ہیں جن میں زورا کی تصاویر بھی شامل تھیں۔
ایک ٹریڈر سے بی بی سی نے رابطہ کیا جو ’ٹیلیگرام‘ کے ذریعے ’وی آئی پی پیکجز‘ فروخت کر رہا تھا۔ اس میں بچوں کی زیادتی کے ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر شامل تھیں جن میں 7 سے 12 سال تک کے بچوں کا ذکر تھا۔
یہ تاجر انڈونیشیا میں مقیم معلوم ہوا اور اس کا ایک بینک اکاؤنٹ بی بی سی کو دستیاب ہو سکا جس سے اس کی شناخت کی کوشش کی گئی۔
ایکس نے دعویٰ کیا کہ وہ’زیرو ٹالرینس پالیسی‘ پر کام کر رہا ہے لیکن عملاً یہ مسئلہ بڑی شدت سے برقرار ہے کیونکہ ہر اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد ایک نیا اکاؤنٹ بن جاتا ہے۔

زورا نے کہا کہ ’ میرا جسم کوئی مال نہیں نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے جو لوگ یہ مواد شیئر کرتے ہیں وہ محض دیکھنے والے نہیں بلکہ شریک مجرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فوراً قدم اٹھاتے ہیں تو براہِ کرم ہم سب کے لیے بھی یہی کریں۔
بی بی سی نے انویسٹیگیشن کیسے کی؟
بی بی سی کی ٹیم نے اس کیس کی مزید تہہ تک پہنچنے کے لیے خود کو خریدار ظاہر کر کے اس ٹریڈر سے رابطہ کیا جو بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی فروخت میں ملوث تھا۔
اس رابطے کے دوران ٹریڈر نے اپنی بینک معلومات اور آن لائن ادائیگی کے ذرائع فراہم کیے جن پر ایک ہی شخص کا نام درج تھا۔
ایک رضاکار نے بھی اسی نام سے جڑے مزید 2 بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کا سراغ لگایا۔ بی بی سی نے اس نام کو بنیاد بنا کر انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کے مضافاتی علاقے میں ایک ایسے پتے تک رسائی حاصل کی جو انہی بینک تفصیلات سے جڑا ہوا تھا۔
بی بی سی کا ایک مقامی پروڈیوسر وہاں پہنچا اور ایک شخص سے ملاقات کی جس کا نام ان بینک اکاؤنٹس پر درج نام سے مطابقت رکھتا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں 469 موبائل ایپلی کیشنز بلاک کردی گئیں، وجہ کیا بنی؟
جب اس شخص کو تمام ثبوت دکھائے گئے تو اس نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے ان معاملات کا کوئی علم نہیں۔ اس نے یہ تسلیم کیا کہ ان میں سے ایک بینک اکاؤنٹ واقعی اس کا ہے لیکن وہ اکاؤنٹ صرف ایک رہن کی ٹرانزیکشن کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے بعد وہ استعمال نہیں ہوا۔ اس نے باقی اکاؤنٹس اور مالی ترسیلات سے مکمل لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ وہ اپنے بینک سے رابطہ کر کے معاملے کی جانچ کرے گا۔ چونکہ اس شخص کے ملوث ہونے کی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اس لیے بی بی سی نے اس کا نام شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زورا کی تصاویر کی مارکیٹنگ کا جو طریقہ استعمال ہو رہا تھا وہ دنیا بھر میں موجود سینکڑوں ایسے ٹریڈرز کی جانب سے اپنایا گیا ہے جو بچوں کے استحصال کو ایک منظم اور خفیہ کاروبار کی صورت میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔












